Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

عمران خان کا میڈیکل معائنہ متنازع؛ ذاتی ڈاکٹر کی عدم رسائی پر PTI کا شدید احتجاج، اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ عمران خان کی طبی رپورٹس کو غیر تسلیم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب

12/9/20251 min read

پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ عمران خان کی طبی رپورٹس کو غیر تسلیم شدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک چیئرمین پی ٹی آئی کا معائنہ ان کے ذاتی معالج سے نہیں کرایا جاتا، تب تک سرکاری ڈاکٹروں کی رپورٹ کو درست نہیں مانا جائے گا۔ راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے راستے پر قائم ایک پولیس چیک پوسٹ کے قریب عمران خان کی بہنوں، پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی موجودگی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی قیادت کو سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش ہے اور سرکاری سطح پر فراہم کردہ معلومات پر مکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ہر پہلو کو شفاف ہونا چاہیے کیونکہ قوم کا قائد جیل میں ہے اور ان کی جان و صحت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔

ادھر عمران خان کی بہنیں اور درجنوں کارکنان اڈیالہ جیل کے باہر ایک پولیس ناکے پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں جہاں وہ اپنے بھائی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے اور ذاتی معالج کے داخلے پر پابندی کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دھرنے میں موجود لیڈران کا کہنا ہے کہ جب تک ملاقات اور معائنہ کی اجازت نہیں ملتی، احتجاج جاری رہے گا۔

سلمان اکرم راجا نے صورتحال کو "لاقانونیت کی انتہا" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور ایک منتخب وزیراعظم کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے واضح احکامات دیے تھے کہ عمران خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے، مگر انتظامیہ جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ رویہ سیاسی انتقام کی نشاندہی کرتا ہے جسے PTI کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ احتجاجی حکمتِ عملی کا حتمی فیصلہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کریں گے، کیونکہ تمام جماعتیں آئینی و جمہوری مزاحمت کے مشن پر متفق ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہر قسم کی مزاحمت آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی، کیونکہ PTI کی جدوجہد کا بنیادی اصول ہی قانونی راستہ ہے۔

عمران خان کی صحت، ذاتی ڈاکٹر کی رسائی اور جیل انتظامیہ کے رویے نے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا حکومت سابق وزیراعظم کو ان کا بنیادی حق دینے کے لیے تیار ہے یا معاملہ مزید پیچیدگی اختیار کرے گا۔ موجودہ صورتحال اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی گرما گرمی مزید بڑھے گی اور PTI کی جانب سے مزید احتجاجی اقدامات بھی دیکھنے کو مل س

کتے ہیں۔