Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

"امریکہ میں افغان پناہ گزینوں کے سنگین واقعات—نیشنل گارڈ پر فائرنگ اور ٹک ٹاک پر بم دھمکی، حکام الرٹ"

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے نے نہ صرف حکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے

12/1/20251 min read

worm's-eye view photography of concrete building
worm's-eye view photography of concrete building

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے نے نہ صرف حکام کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے بعد سامنے آنے والی معلومات نے صورتِ حال کو مزید تشویشناک بنا دیا ہے۔ امریکی سکیورٹی اداروں نے اب تک ایسے دو افغان پناہ گزینوں کی نشاندہی کی ہے جو افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکہ لائے گئے تھے اور جن کا تعلق حالیہ سنگین جرائم سے جوڑا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس اور حکام کے ابتدائی بیانات کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں افغانستان سے منتقل ہونے والے ایک شخص کا کردار زیرِ تفتیش ہے۔ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے فیڈرل ایجنسیز مشترکہ تحقیقات کر رہی ہیں جبکہ نیشنل گارڈ نے اپنے سکیورٹی پروٹوکول مزید سخت کر دیے ہیں۔

اسی دوران ایک اور واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ٹیکساس میں افغان نژاد محمد داؤد الکوزی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ مبینہ طور پر ایک بم بنانے کا دعویٰ کر رہے تھے اور فورٹ ورتھ کے علاقے کو نشانے پر رکھنے کی بات کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق ویڈیو کی تصدیق اور جانچ کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے الکوزی کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اُن پر ریاستی سطح پر دہشت گردی کی دھمکی دینے کا سخت الزام عائد کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف سکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھاتے ہیں بلکہ اُن پناہ گزینوں کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں جو قانونی طور پر امریکہ منتقل ہوئے اور اپنے نئے ملک میں پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ فیڈرل سکیورٹی ایجنسیز کے مطابق تمام ایسے کیسز کی از سرِ نو اسکریننگ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انخلا کے دوران کس طرح کے عناصر امریکہ منتقل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

واشنگٹن ڈی سی اور ٹیکساس دونوں مقامات پر سکیورٹی اداروں نے الرٹ جاری کر دیا ہے جبکہ مقامی سطح پر پبلک سیفٹی ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے محرکات، روابط اور ممکنہ نیٹ ورکس کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔

یہ واقعات امریکہ میں افغان پناہ گزین پالیسی، اسکریننگ میکانزم اور سکیورٹی پروٹوکول پر نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں، جبکہ تفتیشی ادارے اسے انتہائی حساس معاملہ قرار دے

رہے ہیں۔