Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

امریکہ میں پناہ گزینوں کے فیصلے منجمد: وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی فائرنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا قدم

وائٹ ہاؤس کے قریب افغان نژاد شخص کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ

11/29/20251 min read

وائٹ ہاؤس کے قریب افغان نژاد شخص کی جانب سے نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ملک بھر میں پناہ گزینوں اور امیگریشن سے متعلق معاملات پر غیر معمولی سختی اختیار کرتے ہوئے تمام پناہ گزینوں کی درخواستوں کے فیصلے عارضی طور پر روک دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں اور غیر قانونی نقل و حرکت پر مزید سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے سربراہ جوزف ایڈلو نے واضح کیا ہے کہ فیصلے منجمد رکھنے کا یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہر آنے والے درخواست گزار کی مکمل اسکریننگ، بیک گراؤنڈ چیک اور حفاظتی جانچ پوری نہیں ہو جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ملک کی داخلی سلامتی اولین ترجیح ہے، اور اسی مقصد کے لیے امیگریشن سے متعلق ہر فیصلہ غیر معینہ مدت تک مؤخر کیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل بیان دیا تھا کہ امریکہ میں ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے آنے والوں کی مستقل منتقلی کو روکنے پر غور کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں امیگریشن قوانین مزید سخت کیے جائیں گے۔ امریکہ میں سی بی ایس نیوز کے مطابق امیگریشن سروسز کے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پناہ کی درخواستوں پر کارروائی تو جاری رکھیں لیکن انہیں منظور یا مسترد کرنے کے آخری مرحلے پر رُک جائیں۔ اس نئے فیصلے کے بعد ہزاروں درخواست گزار بدستور انتظار کی کیفیت میں رہیں گے جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں نے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ اندرونی سیکیورٹی میں معمولی سی غفلت بھی بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے ہر قدم احتیاط سے اٹھایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امیگریشن پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر امریکہ میں پناہ لینے کے خواہش مند افراد پر پڑے گا۔