"اندھے کمرے کا راز — لاہور کی وہ کہانی جسے آج تک کوئی سمجھ نہیں پایا"
لاہور کی پرانی گلیوں میں ایک بوڑھا مکان تھا جسے لوگ اندھا کمرہ کہہ کر پکارتے تھے۔ کہتے ہیں وہاں ایسا سناٹا تھا جسے رات کے وقت بھی کوئی توڑ نہ پاتا۔ لوگ گزرتے تو رفتار تیز ہو جاتی
12/6/20251 min read


لاہور کی پرانی گلیوں میں ایک بوڑھا مکان تھا جسے لوگ اندھا کمرہ کہہ کر پکارتے تھے۔ کہتے ہیں وہاں ایسا سناٹا تھا جسے رات کے وقت بھی کوئی توڑ نہ پاتا۔ لوگ گزرتے تو رفتار تیز ہو جاتی، نگاہیں جھک جاتیں، اور دل میں عجیب سا بوجھ اتر آتا۔ مگر وہ کہانی جو برسوں سے دبائی گئی، اصل میں کچھ اور ہی تھی—اور اسی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش میں اس داستان کا آغاز ہوتا ہے۔
حمزہ، جو ایک مقامی فوٹوگرافر تھا، پراسرار جگہوں کا سراغ لگانا اس کا شوق بھی تھا اور پیشہ بھی۔ ایک دن اسے ایک نامعلوم اکاؤنٹ سے تصویر ملی—ایک اندھیرا کمرہ، جس کی دیوار پر صرف ایک سطر لکھی تھی:
“جو دیکھنا چاہتے ہو، وہ یہاں نہیں… خود تمہارے اندر ہے۔”
اس کے ساتھ لوکیشن بھی بھیجی گئی تھی۔ تجسس حمزہ کو کھینچ لایا۔ وہ شام چھ بجے اس گلی میں پہنچا۔ دروازہ آہستہ سا کھلا ہوا تھا، جیسے کوئی انتظار کر رہا ہو۔ وہ اندر داخل ہوا تو پورا مکان بوسیدہ دیواروں، ٹوٹی کھڑکیوں اور مٹی کے ایک بھاری بوجھ سے بھرا تھا۔
سب سے پیچھے وہی کمرہ تھا جس کی تصویر اسے ملی تھی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ کمرے میں کوئی کھڑکی نہ تھی، کوئی روشنی نہ تھی، مگر پھر بھی اندھیرے میں سب کچھ دھندلا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے کسی نے روشنی کو قید کر رکھا ہو۔
حمزہ نے کیمرہ آن کیا تو اس کی لینز دھندلا گئی—جیسے کمرے نے خود تصویریں لینے سے انکار کر دیا ہو۔ اس نے ہاتھ لمبا کر کے دیوار کو چھوا۔ دیوار برف کی طرح ٹھنڈی تھی، اور اچانک کسی نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی:
“یہ جگہ تمہارے لیے نہیں…”
وہ پلٹا مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ اس کا دل دھڑک اٹھا، مگر وہ آگے بڑھتا گیا۔ کمرے کے وسط میں ایک پرانا لکڑی کا تختہ پڑا تھا، جس پر جلی ہوئی تحریر تھی:
“اندر آنے والے اکثر باہر نہیں نکلتے۔”
حمزہ کی ٹانگیں بے اختیار کانپنے لگیں۔ مگر کہانی کا سچ جاننے کے جنون نے اسے رکنے نہ دیا۔ اس نے تختہ اٹھایا تو نیچے ایک چھوٹا سا صندوق تھا۔ اس نے کھولا—اندر صرف ایک آئینہ تھا۔ پرانا، گرد آلود مگر صاف۔ جیسے کسی نے برسوں تک اسے چھوا ہی نہ ہو۔
حمزہ نے آئینے میں دیکھنا چاہا، مگر جیسے ہی اس کی نظر پڑی، وہ چونکا۔ اس میں اس کا عکس نہیں تھا… بلکہ ایک دوسرا چہرہ—پیلے رنگ کی آنکھیں، سیاہ ہونٹ اور ایک ایسے شخص کی پرچھائیں جو انسان کم اور سایہ زیادہ لگتا تھا۔ وہ چہرہ ہلکا سا مسکرایا… اور بولے بغیر بول اٹھا:
“تم دیر سے آئے ہو… ہم تمہیں کب سے دیکھ رہے ہیں۔”
حمزہ نے آئینہ چھوڑ دیا۔ کمرہ اچانک لرزنے لگا۔ دروازہ خود ہی بند ہو گیا۔ وہ باہر بھاگا مگر دروازے پر ہاتھ رکھتے ہی اس کی انگلیاں سن ہونے لگیں۔ کمرے کی دیواروں سے سرگوشیوں کا شور بڑھتا گیا—
“یہ تمہاری کہانی نہیں… تمہارے انجام کا آغاز ہے…”
حمزہ نے پوری طاقت سے دھکا مارا اور دروازہ ٹوٹ کر باہر کی دیوار سے ٹکرایا۔ وہ ہانپتا ہوا گلی میں نکلا۔ باہر آ کر دیکھا تو سورج ڈوب چکا تھا، مگر گلی میں وہ گھر کہیں نہیں تھا۔ جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ اس کی جگہ ایک خالی میدان تھا۔
حمزہ نے موبائل نکال کر دوبارہ وہ بھیجی گئی تصویر کھولی—مگر تصویر غائب تھی۔ تھریڈ ڈیلیٹ ہو چکا تھا۔ اس نے کیمرہ کھولا تو آخری تصویر میں وہی اندھا کمرہ اور آئینہ موجود تھا… مگر آئینے میں اب حمزہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
اس رات کے بعد حمزہ مسلسل یہ ایک بات دہراتا رہا:
“میں باہر تو آ گیا ہوں… مگر شاید وہ چیز میرے اندر آ گئی ہے…”
آج بھی لاہور کے اس علاقے میں لوگ ایک عجیب بات بیان کرتے ہیں—کبھی کبھار رات کو کسی خالی میدان میں کیمرے کی فلیش جھلملاتی ہے، جیسے کوئی کسی اندھے کمرے کی تصویر لینے کی کوشش کر رہا ہو… اور ساتھ ایک مدھم سرگوشی سنائی دیتی
ہے:
“کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی…”
