اسلام آباد کچہری حملہ: وفاقی وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ کا دعویٰ — "منصوبہ بندی افغانستان میں، نور ولی محسود اور اس کے کمانڈر داد اللہ ملوث"
اسلام آباد — وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کی ضلعی کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے
11/26/20251 min read


اسلام آباد — وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ 11 نومبر کو اسلام آباد کی ضلعی کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ نور ولی محسود نے کی اور یہ منصوبہ بندی اُن کے کمانڈر "داد اللہ" کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔ وزیرِ اطلاعات کے مطابق حملہ آور اصل ہائی سیکیورٹی ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا اور دھماکہ شہر کے مضافاتی علاقے میں ہوا جس سے بڑے جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے حملے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے چند مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ملزمان کے موبائل، رابطوں اور مبینہ ہینڈلرز تک پہنچنے کے شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ان بقول گرفتار افراد اور ملزمان کے رابطوں کے ذریعے ملنے والی معلومات سے یہ پتہ چلا کہ منصوبہ بندی افغانستان کے بعض علاقے سے کی گئی۔
حکومت نے الزام لگایا ہے کہ حملے کی کارروائی افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے ترتیب دی گئی، اور اس سلسلے میں کابل حکومت پر تنقیدی نکتۂ نظر بھی سامنے آیا — وزارتِ خارجہ اور وزارتی عہدیداروں نے بین الاقوامی سطح پر اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ اسی پس منظر میں وزیرِ دفاع اور دیگر سرکاری حلقوں نے افغانستان میں موجود عسکری عناصر کے خلاف سخت موقف اپنانے کی بات کی ہے۔ تاہم کابل حکومت کی طرف سے فوری طور پر تفصیلی ردِ عمل یا تردید متعلقہ اطلاعات میں شامل نہیں تھی۔
تحقیقاتی اداروں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ اس واقعے سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جن میں ممکنہ طور پر مبینہ ہینڈلرز کے ملاقاتوں، رابطہ کاری ایپس، اور سرحد پار سے ہونے والی معاونت سے متعلق ڈیٹا شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تاحال حملے کی ذمہ داری ظاہر کرنے والی تنظیموں کے بیانات یا ثبوتوں کی حتمی تصدیق کی جا رہی ہے، اور ضروری قانونی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے گی۔
عوامی سطح پر اس واقعے نے سیکیورٹی کے سوالات کو جنم دیا ہے اور عدالتوں، سرکاری اداروں اور عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات میں مزید سختی کی درخواست کی جا رہی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو روکا جا سکے۔
نوٹ برائے قارئین: اس خبر میں شامل اہم دعووں اور حکومتی بیانات کی بنیاد سرکاری پریس کانفرنسز اور قومی/بین الاقوامی میڈیا رپورٹس ہیں؛ تفتیش جاری ہے اور حکومت کی جانب سے حاصل ہونے والے شواہد اور گرفتاریوں کی تفصیلات وقت کے ساتھ مزید واضح ہوں گی۔
