Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا: خاموش بیماریوں کی خطرناک علامت یا معمولی مسئلہ؟ مکمل اور مستند طبی رپورٹ

ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ایک عام مگر نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ ہے، جسے زیادہ تر لوگ وقتی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

12/13/20251 min read

ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ایک عام مگر نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ ہے، جسے زیادہ تر لوگ وقتی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہاتھ یا پاؤں “سو گئے ہیں”، لیکن طبی تحقیق کے مطابق اگر یہ کیفیت بار بار ہو، زیادہ دیر تک رہے یا اس کے ساتھ کمزوری، درد، تھکن یا جلنے کا احساس بھی شامل ہو تو یہ کسی اندرونی بیماری یا اعصابی خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں نیورولوجی اور میڈیکل ریسرچ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسلسل سن ہونے کی شکایت کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونے کی سب سے عام وجہ اعصاب پر دباؤ یا خون کی روانی میں عارضی کمی ہے، جیسے غلط انداز میں بیٹھنا یا سونا۔ تاہم جب یہ مسئلہ بار بار سامنے آئے تو اس کے پیچھے ذیابیطس (شوگر)، وٹامن بی 12 کی کمی، گردن یا ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، اعصابی کمزوری، تھائرائیڈ کی خرابی، یا آٹو امیون بیماریوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں میں اعصابی نقصان ایک عام مسئلہ ہے جسے طبی زبان میں “ڈائبٹک نیوروپیتھی” کہا جاتا ہے، اور اس کی ابتدائی علامت اکثر ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا ہوتی ہے۔

ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ وٹامن بی 12 اعصاب کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس وٹامن کی کمی سے اعصابی سگنلز متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں سن ہونا، کمزوری، یادداشت کی کمی اور تھکن جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ جدید مطالعات کے مطابق طویل عرصے تک معدے کے مسائل، سخت ڈائٹنگ یا سبزی خور غذا استعمال کرنے والوں میں بی 12 کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

کچھ کیسز میں ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا گردن یا کمر کی ہڈی کے دباؤ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو کمپیوٹر یا موبائل کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ مسلسل غلط پوسچر اعصاب کو متاثر کرتا ہے، جس سے ہاتھوں میں جھنجھناہٹ اور درد پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دل کی بعض بیماریوں یا خون کی نالیوں میں تنگی کی صورت میں بھی یہ علامت سامنے آ سکتی ہے۔

اگر علامات کے ساتھ شدید کمزوری، بولنے میں دقت، چہرے کا ایک طرف سن ہو جانا یا اچانک توازن بگڑ جانا شامل ہو تو یہ فالج کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے، جس میں فوری طبی امداد نہایت ضروری ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق فالج کے کیسز میں ابتدائی علامات کو بروقت پہچاننا جان بچا سکتا ہے۔

گھریلو سطح پر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہلکے درجے کی سن ہونے کی شکایت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ متوازن غذا، وٹامنز سے بھرپور خوراک، مناسب پانی کا استعمال، روزانہ ہلکی پھلکی ورزش اور درست انداز میں بیٹھنا اعصاب کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے۔ ہاتھوں اور پیروں کی ہلکی مالش، گرم پانی سے سکائی اور لمبے وقت تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گریز بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر مسئلہ مستقل ہو تو خود علاج کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی محفوظ راستہ ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا ہمیشہ خطرناک نہیں، لیکن یہ جسم کی طرف سے ایک وارننگ ہو سکتی ہے۔ اپنی صحت کے چھوٹے اشاروں کو سمجھنا اور بروقت توجہ دینا مستقبل کی بڑی بیماریوں سے بچا سکتا ہے، اسی لیے آگاہی اور احتیاط ہی بہت

رین علاج ہے۔