Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

ایران کا دعویٰ: "ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک تاریخی طور پر ایران کے ہیں" — خلیجی تنازعہ دوبارہ گرم، GCC نے 1990 کی دہائی سے معاملہ اٹھایا۔

ایران کی جانب سے ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک کے بارے میں کیے گئے تازہ دعوے نے خطے میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

12/10/20251 min read

ایران کی جانب سے ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب کوچک کے بارے میں کیے گئے تازہ دعوے نے خطے میں نئی سفارتی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ یہ جزائر تاریخی طور پر ایرانی سرزمین کا حصہ رہے ہیں اور 1971 میں برطانوی انخلا کے بعد سے یہ ایران کے زیرِ انتظام ہیں — ایران اس موقف کی تائید قدیمی نقشوں اور بعض تاریخی حوالوں سے کرتا ہے۔ اس کے برعکس متحدہ عرب امارات (خصوصاً شارجہ اور رأس الخیمہ) ان جزائر پر اپنی ریاستی دعوے برقرار رکھتا ہے اور تنازعہ بین الاقوامی سطح پر طویل عرصے سے جاری ہے۔

تاریخی پس منظر یہ ہے کہ 29-30 نومبر 1971 کو ایرانی فوجی دستے نے ان تینوں جزائر پر قابض ہو گئے — اس واقعے کے بعد سے یہ علاقے ایران کے کنٹرول میں ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے باقاعدہ طور پر اپنا دعویٰ برقرار رکھا اور معاملے کو بین الاقوامی ثالثی کے لئے پیش کرنے کی کوششیں کیں، تاہم ایران نے زیادہ تر بین الاقوامی ثالثی کو رد کر دیا۔ تنازعہ کی حساسیت اس لیے بھی ہے کہ یہ جزائر ہرمز narrow راستے کے قریب ہیں اور سمندری تجارت و توانائی کی ترسیل میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

خلیج تعاون کونسل (GCC) نے 1990 کی دہائی سے اس مسئلے کو اپنے بیانات اور اجلاسوں میں بارہا اٹھایا ہے اور متحدہ عرب امارات کے حق میں تحفظات کا اظہار کیا — GCC نے تہران سے مذاکرات یا بین الاقوامی ثالثی قبول کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جبکہ کئی بار خطے کے اتحادی ممالک نے اس معاملے پر سیاسی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 1990 کی دہائی کے بعد سے GCC کی بیاناتی پالیسی نے اس موضوع کو ریجنل اور بین الاقوامی فورمز پر نمایاں رکھا ہے۔

حالیہ برسوں میں معاملہ دوبارہ بین الاقوامی توجہ میں آیا— چین اور روس جیسے طاقتور ممالک کے بیانات یا مشترکہ مراکز پر اس تنازعے کے بارے میں جاری ریمارکس نے تہران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں کشیدگی بڑھائی ہے، اور ایران نے بعض مواقع پر خاص طور پر چین یا روس کے بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خطے کی اہمیت اور عالمی توانائی روٹس میں اس کی جگہ کی وجہ سے اس تنازعے کے حل کے لئے سفارتی کوششیں جاری رہنے کی توقع ہے، مگر دونوں ملکوں کے متضاد تاریخی دلائل اور ایران کی جانب سے مستقل کنٹرول اس مسئلے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازعے کا حل صرف سفارتی اور بین الاقوامی قانونی راستوں کے ذریعے ہی ممکن ہے؛ عالمی برادری اور علاقائی بلاکس کی درمیانی کاوشیں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ باوجود اس کے موجودہ حقیقت یہ ہے کہ جزائر کے کنٹرول کی صورتِ حال ابھی تک تبدیل نہیں ہوئی اور دونوں اطراف کے سیاسی جذبات تاحال گرم ہیں، جس سے خلیجی خطے میں سفارتی توازن پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔