“چراغاں حویلی کی آخری آہٹ — ایک ایسی کہانی جہاں سچ اور سایہ ایک جیسے لگتے ہیں”
چکوال کے مضافات میں ایک پرانی حویلی تھی جسے لوگ چراغاں حویلی کہتے تھے۔ کبھی شادی بیاہ اور تہواروں کا مرکز رہنے والی وہ جگہ اب مکمل سنسان اور ویران پڑی تھی۔ گاؤں کے بزرگ اکثر کہتے تھے کہ رات کے وقت اس حویلی میں جلتے بجھتے چراغ خود بخود نظر آتے ہیں، جیسے کوئی دیر تک جاگ کر کسی کا انتظار کرتا ہو۔
12/6/20251 min read


چکوال کے مضافات میں ایک پرانی حویلی تھی جسے لوگ چراغاں حویلی کہتے تھے۔ کبھی شادی بیاہ اور تہواروں کا مرکز رہنے والی وہ جگہ اب مکمل سنسان اور ویران پڑی تھی۔ گاؤں کے بزرگ اکثر کہتے تھے کہ رات کے وقت اس حویلی میں جلتے بجھتے چراغ خود بخود نظر آتے ہیں، جیسے کوئی دیر تک جاگ کر کسی کا انتظار کرتا ہو۔
احمد، جو ایک مقامی صحافی تھا، ان باتوں کو محض کہانیاں سمجھ کر ٹالتا رہتا تھا، مگر ایک رات اسے نامعلوم نمبر سے پیغام ملا:
“اگر سچ جاننے کی ہمت ہے تو آج رات بارہ بجے چراغاں حویلی آ جانا۔”
احمد کے لیے یہ محض کوئی ٹریپ بھی ہو سکتا تھا، لیکن اس کے اندر کا صحافی جاگ اٹھا۔ وہ ٹارچ، کیمرا اور موبائل لے کر حویلی پہنچ گیا۔ سرد ہوا کے تھپیڑے، ٹوٹی لکڑیوں کی چرچراہٹ، اور دور سے آتی سرسراہٹ اس رات کو مزید بھاری بنا رہی تھی۔
حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی ایک عجیب سی خاموشی اس کے قدموں سے لپٹی۔ اچانک اوپر کی منزل سے کسی کے چلنے کی آواز آئی۔ احمد نے ٹارچ سیدھی اوپر کی طرف کی، مگر کچھ نظر نہ آیا۔ جیسے ہی وہ زینہ چڑھنے لگا، پشت پر ٹھنڈی سانس کا احساس ہوا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا—کچھ نہیں۔
لیکن زینے کے آخری پائیدان پر پہنچتے ہی اس کی ٹارچ بند ہوگئی۔ اندھیرے میں اسے صرف ایک آواز سنائی دے رہی تھی…
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا…”
دل کی دھڑکن تیز، سانس بھاری، احمد نے موبائل کی فلیش آن کی تو سامنے ایک بوڑھی عورت کھڑی تھی—بال بکھرے ہوئے، آنکھیں لال اور چہرے پر عجیب سا سکوت۔
احمد گھبرا کر نیچے بھاگا لیکن دروازہ اندر سے بند تھا۔ عورت آہستہ سے سیڑھیاں اتر رہی تھی، قدموں کی آواز تیز ہوتی جا رہی تھی۔ احمد نے دیوار کے ساتھ لگی ایک پرانی لکڑی کی الماری ہلاتے ہوئے زور سے کھینچی تو اس کے پیچھے ایک تنگ سا راستہ نظر آیا۔ وہ جھٹ سے اندر گیا۔ راستہ ایک مدھم روشنی والے کمرے میں جا کر ختم ہوا، جہاں دیواروں پر پرانی تصاویر لگی تھیں۔
ان تصویروں میں ایک خاندان دکھائی دیتا تھا—مگر آخری تصویر میں وہی بوڑھی عورت تھی، ساتھ ایک نوجوان لڑکا، اور اس کی تصویر کے نیچے لکھا تھا:
“احمد حسین — 1995 میں لاپتا”
احمد کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔ تصویر کے کونے میں لگی مہر نے اس کا دل منجمد کر دیا، کیونکہ وہ اسی اخبار کی مہر تھی جس میں وہ خود کام کرتا تھا۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا:
“یہ کون ہے…؟ یہ میری تصویر جیسی کیوں—”
دیوار کے پیچھے کھڑی وہ عورت آہستہ سے بولی:
“کیونکہ تم وہی احمد ہو… جسے ہم نے واپس بلایا ہے۔”
اسی لمحے دروازہ زور سے بند ہوا، اور پوری حویلی میں چراغ ایک ساتھ جل اٹھے—بالکل اسی طرح جیسے سالوں پہلے اس گھر میں آخری بار جشن ہوا تھا… اس رات کے بعد احمد کبھی گھر نہیں لوٹا، اور اگلے دن اخبار میں ایک ہی خبر شائع ہوئی:
"چراغاں حویلی میں ایک
اور شخص لاپتا—تحقیقات جاری"
