Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

دبئی ایئر شو حادثہ: تیجس طیارے کے پائلٹ کی میت بھارت پہنچا دی گئی، فوجی اعزاز کے ساتھ الوداع

دبئی میں ایئر شو کے دوران حادثے میں ہلاک ہونے والے انڈین فضائیہ کے ونگ کمانڈر نمن سیال کی میت بھارت پہنچا دی گئی ہے،

Tahir Shahzad

11/24/20251 min read

white concrete building
white concrete building

دبئی میں ایئر شو کے دوران حادثے میں ہلاک ہونے والے انڈین فضائیہ کے ونگ کمانڈر نمن سیال کی میت بھارت پہنچا دی گئی ہے، جہاں فضائیہ کے اعلیٰ افسران نے فوجی اعزاز کے ساتھ ان کو آخری سلام پیش کیا۔ گزشتہ جمعے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایئر شو کے آخری دن نمن سیال بھارتی ساختہ تیجس لڑاکا طیارے میں فلائنگ ڈسپلے دے رہے تھے جب طیارہ تیزی سے نیچے آتے ہوئے失 قابو ہو کر گر کر تباہ ہوگیا۔ اس افسوسناک حادثے میں پائلٹ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد ان کی موت نے بھارت سمیت خطے بھر میں تشویش اور دکھ کی فضا قائم کر دی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق نمن سیال کی میت کو انڈین فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے تمل ناڈو کے کوئمبٹور میں واقع سلور ایئر بیس منتقل کیا گیا، جہاں اہلکاروں نے گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سلامی پیش کی۔ دبئی سے روانگی کے وقت اماراتی فوج کے جوانوں نے بھی پورے فوجی پروٹوکول کے ساتھ گارڈ آف آنر دیا، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون اور باہمی احترام کا اظہار تھا۔

یو اے ای میں انڈیا کے سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انڈین سفیر دیپک متل اور کونسل جنرل ستیش سیون نے نمن سیال کی روانگی سے قبل ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ سفارت خانے کے مطابق یہ حادثہ نہ صرف انڈین فضائیہ کیلئے نقصان ہے بلکہ خطے کے فضائی تربیتی اقدامات کیلئے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔

ونگ کمانڈر نمن سیال کا تعلق بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا سے تھا اور وہ بھارتی فضائیہ کے تجربہ کار پائلٹ سمجھے جاتے تھے۔ ان کی ہلاکت پر مقامی آبادی اور خاندان میں بھی شدید غم کی فضا ہے۔ فضائیہ کے مطابق نمن سیال نے کئی سالوں تک اہم طیاروں پر خدمات انجام دیتے ہوئے ملک کی نمائندگی کی اور ان کی پروفیشنلزم کی وجہ سے انہیں عالمی سطح کے ایئر شوز میں بھی شامل کیا جاتا تھا۔

بھارتی حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کا شکار ہوا یا حادثے کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔ فضائیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگی۔