"دبئی میں دنیا کا سب سے اونچا ہوٹل غیر ارادی طور پر تعمیر ہو گیا — ڈیزائن کی تبدیلیوں نے ریکارڈ بنا ڈالا"
دبئی نے ایک بار پھر عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے جہاں دنیا کا سب سے اونچا ہوٹل اس وقت خبروں میں ہے،
12/6/20251 min read


دبئی نے ایک بار پھر عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے جہاں دنیا کا سب سے اونچا ہوٹل اس وقت خبروں میں ہے، جس کی حیران کن بات یہ ہے کہ اس کی ریکارڈ ساز بلندی کسی پہلے سے بنائے گئے منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ تعمیر کے دوران ڈیزائن میں ہونے والی مسلسل تبدیلیوں نے اسے غیر ارادی طور پر دنیا کا بلند ترین ہوٹل بنا دیا۔ اس منصوبے کو تیار کرنے والے معروف گروپ دی فرسٹ گروپ کے سی ای او روب برنز نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اگرچہ وہ ایک منفرد اور شاندار ہوٹل بنانے کے خواہشمند تھے، مگر یہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ عمارت عالمی ریکارڈ بنا دے گی۔ ان کے مطابق یہ کامیابی تعمیراتی مرحلے میں ہونے والی غیر متوقع تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جس نے عمارت کی بلندی کو مسلسل بڑھا دیا۔
یہ ہوٹل دبئی کی ایک نہایت محدود جگہ، صرف 3 ہزار 600 مربع میٹر کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے، جو دبئی کے معیار کے لحاظ سے بہت چھوٹا تصور کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عمارت کے چیف آرکیٹیکٹ یحییٰ جان کو ڈیزائن کے حوالے سے بے شمار تخلیقی حل نکالنے پڑے۔ عمارت کا اندرونی حصہ پرکشش ضرور ہے، لیکن دبئی کے روایتی بڑے اور شاندار ہوٹلوں کے مقابلے میں اس کا ڈیزائن سادگی اور کم جگہ کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ یحییٰ جان کے مطابق پلاٹ کا منفرد زاویہ اور محدود رقبہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم انہی مشکلات نے انہیں بہترین انجینیئرنگ حل تخلیق کرنے پر مجبور کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب حالات زیادہ مشکل ہوں تو بہترین کام وہیں سے جنم لیتا ہے۔
82 منزلوں پر مشتمل اس ہوٹل میں ایک ہزار چار کمروں کی گنجائش ہے، جنہیں جدید اور سادہ اسٹائل کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ کمروں میں فرش سے چھت تک شیشے کی دیواریں نصب ہیں، جو دبئی مرینا، پام جمیرا اور خلیج کے شاندار اور وسیع مناظر پیش کرتی ہیں۔ روب برنز کے مطابق اتنے زیادہ کمروں کی موجودگی کے باوجود وہ دبئی کی مہمان نوازی کے شعبے میں زبردست پوٹینشل دیکھ رہے ہیں، اور انہیں یقین ہے کہ یہ ہوٹل آنے والی دہائیوں میں دبئی کے ٹورزم انڈسٹری میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
یہ منفرد بلند عمارت نہ صرف عالمی ریکارڈ کی حامل ہے بلکہ تعمیراتی دنیا میں اس بات کی بھی مثال بن چکی ہے کہ محدود جگہ، مشکل حالات اور تخلیقی سوچ کسی بھی منصوبے کو نہ صرف کامیاب بنا سکتی ہے بلکہ اسے دنیا بھر میں پہچان بھی دلا سک
تی ہے۔
