Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

’’فٹ پاتھ سے ارب پتی تک: باؤ فاضل کی حیرت انگیز جدوجہد جس نے اورینٹ گروپ کو عالمی صف میں لا کھڑا کیا‘‘

لاہور سے تعلق رکھنے والے اورینٹ گروپ کے بانی میاں محمد فاضل المعروف باؤ فاضل کی زندگی جدوجہد، مستقل مزاجی اور مسلسل محنت کی وہ مثال ہے

12/8/20251 min read

لاہور سے تعلق رکھنے والے اورینٹ گروپ کے بانی میاں محمد فاضل المعروف باؤ فاضل کی زندگی جدوجہد، مستقل مزاجی اور مسلسل محنت کی وہ مثال ہے جس نے ایک عام انسان کو پاکستان کے بڑے صنعتی گروپوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ چھ جماعتیں پاس یہ شخص کبھی لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب اپنے والد کے چھوٹے سے ہوٹل میں دودھ پتی بناتا اور گاہکوں کے گندے برتن دھوتا تھا، لیکن حالات سے لڑنے اور کامیابی کی جستجو نے اسے ارب پتی صنعت کار بنا دیا۔ آج اورینٹ گروپ ایئر کنڈیشنرز، فریج، مائیکروویو، ایل ای ڈی ٹی وی اور گھریلو الیکٹرانکس میں پاکستان کی معروف ترین کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے۔

باؤ فاضل نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اس وقت کیا جب انہوں نے والد سے رقم ادھار لے کر ایک پرانا کیمرا خریدا اور دُوموریہ پل کے قریب فٹ پاتھ پر تصویریں کھینچنے کا چھوٹا سا کام شروع کیا۔ دن بھر وہ سڑک کنارے فوٹو گرافی کرتے اور رات کو ہوٹل کے ایک چھوٹے سے اسٹور میں تصویروں کے پرنٹ دھوتے۔ خراب کیمرے اور سخت رویّوں والے گاہکوں کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور چند سال میں اپنی پہلی دکان خرید کر فٹ پاتھ سے دکان تک کا سفر طے کیا۔

وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوٹو گرافی کے ساتھ فوٹو کاپی، فلم اور پرنٹنگ پیپر کا بزنس بھی شروع کیا جس سے ان کی آمدن میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 1980ء کی دہائی میں انہوں نے کلر لیب قائم کی اور مٹسوبشی کمپنی سے فلم اور فوٹو پیپر درآمد کرنا شروع کیا۔ یہی وہ وقت تھا جب ان کے کاروبار نے ترقی کی نئی راہیں کھول دیں اور وہ فلم و پرنٹنگ مارکیٹ کے بڑے ہول سیلرز میں شمار ہونے لگے۔

ڈیجیٹل کیمروں کے آنے سے روایتی فلم کا کاروبار متاثر ہوا تو باؤ فاضل کے بیٹوں نے ان کے ساتھ مل کر نئے مواقع کی تلاش شروع کی۔ ابتدا میں انرجی سیور اور موبائل فون کے کاروبار میں نقصان ہوا مگر باؤ فاضل نے ہمت نہیں ہاری۔ اس دوران مٹسوبشی نے انہیں پاکستان میں ایئر کنڈیشنر فروخت کرنے کی پیشکش کی۔ انہوں نے کم منافع پر 500 اے سیز فروخت کیے اور جلد ہی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی۔

2005 میں انہوں نے چوہنگ کے قریب زمین خرید کر ’’مٹسوبشی‘‘ کے تعاون سے پاکستان میں پہلا اے سی اسمبلنگ پلانٹ لگایا۔ صرف دو سال بعد اورینٹ نے اپنی گھریلو الیکٹرانکس مصنوعات تیار کرنا بھی شروع کردیں۔ ترقی اس قدر تیز تھی کہ 2009 میں کوریا کی معروف کمپنی سام سنگ نے باؤ فاضل سے شراکت داری کی پیشکش کی اور یوں اورینٹ نے پاکستان بھر میں جدید الیکٹرانکس کی مارکیٹ پر اپنی مضبوط گرفت قائم کرلی۔

باؤ فاضل کا کہنا تھا کہ ان کی کامیابی کا راز صرف ایک چیز میں ہے: ’’کام، کام اور صرف کام‘‘۔ کبھی تین دن تک بھوکے رہنے کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور مستقل مزاجی سے سفر جاری رکھا۔ فٹ پاتھ سے شروع ہونے والا یہ کاروبار آج ہزاروں افراد کو روزگار دے رہا ہے اور اورینٹ گروپ پاکستان کی صنعت کا نمایاں ستون بن چکا ہے۔ میاں محمد فاضل اگرچہ انتقال کر چکے ہیں مگر ان کی محنت، بصیرت اور جدوجہد کی پہچان آج بھی زندہ ہے اور ان کی اولاد اسی مشن کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے۔

باؤ فاضل کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ محنت اور مستقل مزاجی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے، بشرطیکہ ارادے مضبوط ہوں اور جدوجہد ترک نہ کی جائے۔