Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

غزہ میں ہلاکتیں 70 ہزار سے تجاوز—جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری، دو معصوم بھائی ڈرون حملے میں شہید

غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 70 ہزار سے بھی آگے نکل چکی ہے۔

11/30/20251 min read

غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 70 ہزار سے بھی آگے نکل چکی ہے۔ یہ ہلاکتیں اُس وقت بھی جاری رہیں جب 10 اکتوبر کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیلی فضائی حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ غزہ کے متعدد علاقوں میں ملبے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں وہ حملے کر رہا ہے، مگر غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ بمباری کا نشانہ عام شہری، خواتین اور بچے بن رہے ہیں۔ تازہ ترین واقعات میں سنیچر کے روز مبینہ طور پر ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں دو کم عمر بھائی فادی اور جمعہ ابو عاصی شہید ہو گئے، جو اپنے گھر کے قریب لکڑیاں اکٹھی کر رہے تھے۔ خاندان کے مطابق دونوں بچے جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس کے مشرق میں اپنی روزمرہ کی سرگرمی میں مصروف تھے کہ اچانک ان پر میزائل داغا گیا۔

اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والے بچوں میں ایک کی عمر آٹھ برس تھی جبکہ دوسرا بمشکل دس یا گیارہ سال کا تھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دونوں بھائیوں کی نمازِ جنازہ اور تدفین نصر ہسپتال میں انجام دی گئی جہاں پہلے ہی سینکڑوں زخمی اور شہدا کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی شناخت میں مصروف نظر آئے۔

اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ نشانہ بنائے جانے والے دو افراد نے جنگ بندی معاہدے کے تحت مقررہ پیلی لکیر عبور کی تھی، تاہم عینی شاہدین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں بچے محض روزمرہ کے کام میں مصروف تھے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خطے میں انسانی بحران، غیر محفوظ ماحول اور شہری آبادی پر حملوں کے بڑھتے خدشات کو اجاگر کر دیا ہے۔

غزہ میں لوگ اب بھی خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں، اور طبی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ پہلے سے زیادہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، مگر اب تک صورتحال بدستور بحرانی کیفیت

میں ہے۔