’’گرین لائن ایکسپریس میں کھٹملوں کا حملہ: مہنگے ٹکٹ، پریشان حال مسافر — ریلوے انتظامیہ خاموش‘‘
اسلام آباد سے کراچی روانہ ہونے والی گرین لائن ایکسپریس ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آگئی، جہاں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظام نے مسافروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔
12/8/20251 min read


اسلام آباد سے کراچی روانہ ہونے والی گرین لائن ایکسپریس ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آگئی، جہاں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظام نے مسافروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ مارگلہ اسٹیشن سے چلنے والی اس ٹرین میں مسافروں نے پوری رات کھٹملوں کے حملوں کا شکار ہونے کی شکایات کیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردِعمل سامنے آیا۔ مسافروں کے مطابق انہوں نے دس سے بارہ ہزار روپے تک کے مہنگے ٹکٹ خریدے، مگر بدقسمتی سے انہیں آرام دہ سفر کے بجائے کھٹمل زدہ برتھیں اور غیر معیاری صفائی کا سامنا کرنا پڑا۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کھٹملوں نے رات بھر بچوں اور خواتین کو سونے نہیں دیا، جبکہ متعدد مسافروں نے ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے ٹرین کی حالتِ زار کو بے نقاب کیا۔ مسافروں کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی ٹرین مینجمنٹ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف ہے، اور شکایات کے باوجود ریلوے حکام کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی یا جواب موصول نہیں ہوا۔
مسافروں نے وزیرِ ریلوے سمیت اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، بوگیوں کی باقاعدہ اسپرے اور صفائی کا نظام بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر تاحال کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا، جس سے عوامی غصہ مزید بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جدید اور آرام دہ سفر کے وعدوں کے باوجود گرین لائن کی حالت معمولی لوکل ٹرین سے مختلف نظر نہیں آتی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر ریلوے کے صفائی کے نظام اور مسافروں کی فلاح کے لیے کیے گئے دعوؤں پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے، جبکہ مسافر بہتر سہولیات اور معیاری ماحول فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کر رہ
ے ہیں۔
