جھارکھنڈ میں 200 کلو چرس کیس: شواہد چوہے کھا گئے، عدالت نے مرکزی ملزم بری کر دیا، پولیس پر شدید برہمی
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کی ایک مقامی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کرتے ہوئے
1/3/20261 min read


بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کی ایک مقامی عدالت نے منشیات اسمگلنگ کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں مرکزی ملزم کو بری کرتے ہوئے پولیس کے تفتیشی نظام اور شواہد کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، جبکہ شواہد کو سنبھالنے میں ایسی سنگین کوتاہیاں سامنے آئیں جو کسی بھی فوجداری مقدمے کی بنیاد کو کمزور کر دیتی ہیں۔
یہ مقدمہ سال 2022 میں درج کیا گیا تھا، جب جھارکھنڈ پولیس نے قومی شاہراہ پر ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کا دعویٰ کیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی کی تلاشی کے دوران خفیہ خانوں سے تقریباً 200 کلو گرام چرس برآمد کی گئی، جس کی مالیت اس وقت تقریباً 3 کروڑ پاکستانی روپے بتائی گئی تھی۔ پولیس نے اس کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ ریاست میں منشیات اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
تاہم مقدمے کے ٹرائل کے دوران صورت حال یکسر بدل گئی۔ عدالت میں پیش کی گئی پولیس کی رپورٹ کے مطابق ضبط شدہ چرس کو سرکاری گودام میں رکھا گیا تھا، مگر بعد ازاں یہ انکشاف سامنے آیا کہ گودام میں موجود چوہوں نے بڑی مقدار میں منشیات کو نقصان پہنچایا اور وہ شواہد کے طور پر قابلِ استعمال نہیں رہیں۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث چرس محفوظ نہ رہ سکی، جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی منشیات کے مقدمے میں ضبط شدہ مواد بنیادی شواہد کی حیثیت رکھتا ہے، اور اگر یہی شواہد محفوظ نہ رہیں تو استغاثہ کا پورا مقدمہ مشکوک ہو جاتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیس نہ صرف منشیات کی برآمدگی ثابت کرنے میں ناکام رہی بلکہ چین آف کسٹڈی یعنی شواہد کے تسلسل کو بھی برقرار نہیں رکھ سکی، جو قانون کے مطابق لازمی شرط ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں پولیس کے طرزِ عمل کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی غفلت نہ صرف ملزمان کو فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ اگر ریاستی ادارے اتنی بڑی مقدار میں ضبط کی گئی منشیات کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تو مستقبل میں ایسے مقدمات کے نتائج پر بھی سوالات اٹھیں گے۔
مرکزی ملزم کی بریت کے بعد یہ مقدمہ بھارت میں پولیس کے تفتیشی نظام اور منشیات کے مقدمات میں شواہد کے تحفظ پر ایک نئی بحث کا باعث بن گیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صرف گرفتاری اور برآمدگی کے دعوے کافی نہیں ہوتے، بلکہ ہر مرحلے پر قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد نے عدالت کے فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا، جبکہ دیگر نے پولیس کی غفلت پر سخت تنقید کی۔
