جنیوا مذاکرات میں پیش رفت، لیکن روسی مطالبات امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار
جنیوا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان روس کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ گئے،
Tahir Shahzad
11/26/20251 min read


جنیوا میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان روس کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے اہم مذاکرات اپنے اختتام کو پہنچ گئے، جہاں دونوں ملکوں کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بات چیت میں قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ مذاکرات کے بعد جاری بیان میں واشنگٹن اور کیف نے اس عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امن کی بحالی کے لیے مزید رابطے برقرار رکھے جائیں گے۔ تاہم اس بات کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آسکی کہ ماسکو اور یوکرین کے درمیان سب سے بڑے اختلاف، یعنی علاقائی حدود اور سیکیورٹی گارنٹی کے معاملے میں موجود وسیع خلیج کو کس طرح کم کیا جائے گا۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ امن عمل کو سب سے بڑا خطرہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کا وہ مطالبہ ہے جس کے مطابق مشرقی یوکرین میں روس کے زیرِ قبضہ علاقوں کو قانونی طور پر روسی علاقہ تسلیم کیا جائے۔ زیلنسکی نے واضح کیا کہ ان علاقوں پر روسی حق کو ماننا یوکرین کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور ایسا کوئی بھی فیصلہ دنیا کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔ صدر زیلنسکی کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ اگر عالمی سطح پر دباؤ بڑھا تو ممکن ہے کہ امن کے نام پر ماسکو کو وہ علاقہ دے دیا جائے جس پر اس نے طاقت کے ذریعے قبضہ کیا ہے، جو نہ صرف یوکرین بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنیوا مذاکرات کو روک تھام کے بجائے پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن اصل چیلنج روس کے علاقائی مطالبات اور یوکرین کی خودمختاری کے درمیان پائے جانے والے بنیادی تضادات ہیں۔ مبصرین کے مطابق امن عمل کا مستقبل اب ان معاملات پر ہونے والی آئندہ گفت و شنید پر منحصر ہ
وگا۔
