خلیجی ممالک نے رنویر سنگھ کی فلم "دھریندر" پر پابندی عائد کردی — وجہ: مبینہ پاکستان مخالف مناظر اور سکیورٹی حساسیتیں
رنویر سنگھ کی حالیہ سپائی تھرلر فلم "دھریندر" کو خلیجی ممالک میں ریلیز کی منظوری نہیں ملی اور متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور عمان میں اس کی نمائش روک دی گئی ہے —
12/12/20251 min read


رنویر سنگھ کی حالیہ سپائی تھرلر فلم "دھریندر" کو خلیجی ممالک میں ریلیز کی منظوری نہیں ملی اور متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین، کویت اور عمان میں اس کی نمائش روک دی گئی ہے — ذرائع کے مطابق پابندی کی بنیادی وجہ فلم کے ایسے مناظر اور موضوعات کو قرار دیا گیا ہے جنہیں خطے کی سیاسی اور ثقافتی حساسیتوں کے پیشِ نظر 'پاکستان مخالف' یا سکیورٹی کے حوالے سے متنازع سمجھا گیا۔
فلم کے بین الاقوامی باکس آفس کے اعداد و شمار پہلے دن سے ہی نمایاں رہے اور شمالی امریکہ سمیت کچھ خطوں میں اچھا ردِعمل ملا، تاہم خلیجی مارکیٹس سے ریلیز نہ ہونے سے فلم کی مجموعی اوورسیز کمائی پر واضح فرق پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پروڈیوسرز نے دیگر مارکیٹس اور ممکنہ او ٹی ٹی ریلیز کے راستوں کی طرف توجہ مرکوز کر دی ہے۔
فلم پر پابندی کے خلاف بھارت کی فلمی ٹیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ "دھریندر" کسی ملک یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی اور سیکورٹی چیلنجز کے خلاف ایک فرضی داستان ہے، تاہم خلیجی ریگولیٹرز نے فہدہ (cultural/political) حساسیتوں کے باعث نمائش کی اجازت دینے سے انکار کیا — ماضی میں بھی اسی نوعیت کی فلمیں اسی خطے میں مسائل کا شکار رہیں۔ اس تنازع نے فلمی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے کہ بین الاقوامی ریلیز کے دوران مقامی حساسیتوں کو کیسے متوازن رکھا جائے۔
فلم کی ریلیز کے ساتھ ہی غیر قانونی لیکنگ اور پائریسی کے واقعات بھی سامنے آئے، جنہوں نے مارکیٹ میں اس کے تجارتی نقصان کا خطرہ بڑھا دیا — البتہ شائقین اور ناقدین نے رنویر سنگھ اور مرکزی کاسٹ کی اداکاری کی تعریف بھی کی، جس نے فلم کو تنازع کے باوجود خبروں کی زینت بنایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں پابندیوں کا فائدہ یا نقصان صرف مالی نہیں ہوتا بلکہ اس سے فلم کی عالمی شہرت، کریڈٹ اور مستقبل کے بین الاقوامی پارٹنرشپس پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب، فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر ممکنہ قانونی، سفارتی یا سنسرشپ اپیلز کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں یا دیگر ممالک میں آن لائن ریلیز کے آپشنز پر کام کر رہے ہیں تاکہ شائقین تک پروڈکٹ پہنچ سکے اور باکس آفس کا نقصان کم کیا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ "دھریندر" کی خلیجی ممالک میں نمائش روکنے کا معاملہ نہ صرف ایک فلمی تنازع بن چکا ہے بلکہ اس نے خطے میں ثقافتی حساسیت، صحافتی مباحث اور بین الاقوامی تفریحی مارکیٹ کے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا ہے — آئندہ دنوں میں فلم کے ذمہ داران کے بیانات، خلیجی سرکاری وضاحتیں اور ممکنہ او ٹی ٹی تاریخ اس کہانی کے اگلے بڑے پوائنٹس ہوں گے۔
