"کراچی میں دل دہلا دینے والا حادثہ: مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ 15 گھنٹے بعد مردہ حالت میں برآمد"
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے شہر بھر کو سوگوار کر دیا ہے
12/1/20251 min read


کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے شہر بھر کو سوگوار کر دیا ہے، جہاں مین ہول میں گرنے والا تین سالہ بچہ طویل ریسکیو آپریشن کے بعد بالآخر مردہ حالت میں مل گیا۔ ڈیپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے تصدیق کی کہ ریسکیو اداروں نے 15 گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد بچے کی لاش نکال کر پولیس کے حوالے کر دی ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ننھا بچہ اپنے والدین کے ساتھ نیپا چورنگی کے قریب واقع ایک نجی ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا۔ خریداری کے بعد جب فیملی باہر نکلی تو بچہ بے دھیانی میں کھلے مین ہول پر چڑھا اور اندھے کنویں کی طرح گہرے سوراخ میں جا گرا۔ واقعہ اتنی تیزی سے پیش آیا کہ والدین سنبھل بھی نہ سکے۔
ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد علاقے میں ہنگامی کارروائی شروع کر دی گئی، جس میں ہیوی مشینری، واٹر پمپس اور خصوصی آلات کا استعمال کیا گیا۔ پانی اور کیچڑ سے بھرے واٹر چینل کی کھدائی انتہائی مشکل مرحلہ تھی، مگر ریسکیو اہلکاروں نے پوری رات کام جاری رکھا۔
ننھے بچے کے والد نبیل نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ شاہ فیصل کالونی کے رہائشی ہیں اور بیوی کے ساتھ معمول کی شاپنگ کے لیے آئے تھے، مگر کھلا مین ہول ان کے تین سالہ معصوم بیٹے کی جان لے گیا۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مین ہول کو محفوظ کیا گیا ہوتا تو یہ سانحہ پیش نہ آتا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ شہر میں کھلے مین ہولز کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں اور اس معاملے پر کئی بار متعلقہ محکموں کو آگاہ کیا گیا ہے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
کراچی میں بلدیاتی اداروں کے دعووں کے باوجود مین ہولز اور ڈرینج لائنز کی حالت انتہائی خراب ہے، اور اس واقعے نے ایک بار پھر شہر کے بنیادی شہری انتظامات پر سوالات کھڑے ک
ر دیے ہیں۔
