Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

"کراچی میں ڈمپر مافیا بے قابو: صرف 41 روز میں 90 شہری جان سے گئے، ہیوی ٹریفک نے شہر کو خوفزدہ کر دیا"

کراچی میں گزشتہ 41 روز کے دوران ڈمپرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں کی زد میں آ کر 90 افراد کی ہلاکت نے شہر میں ٹریفک نظام اور سڑکوں پر نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں

12/4/20251 min read

کراچی میں گزشتہ 41 روز کے دوران ڈمپرز اور دیگر ہیوی گاڑیوں کی زد میں آ کر 90 افراد کی ہلاکت نے شہر میں ٹریفک نظام اور سڑکوں پر نگرانی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ٹریفک مسائل پہلے ہی شہریوں کے لیے ذہنی اذیت کا باعث تھے، مگر اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں معمولی سی لاپرواہی بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔ شہر بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ہیوی ٹریفک، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، لائسنسنگ میں بے ضابطگیاں، اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے نے حادثات میں خطرناک اضافہ کر دیا ہے۔

ٹریفک حکام کے مطابق ڈمپرز اور ٹریلرز اکثر رات کے اوقات تک محدود رکھنے کے باوجود دن کے وقت بھی شہر کی مصروف سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں، جس سے ٹریفک دباؤ بڑھتا ہے اور حادثات کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ متعدد واقعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ڈمپر ڈرائیور نہ صرف تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہیں بلکہ اوور لوڈنگ اور بریک سسٹم کی خرابی جیسے مسائل کو بھی نظرانداز کرتے ہیں، جو شہریوں کی جان کے لیے مسلسل خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد مختلف علاقوں میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں، جن میں متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈمپر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ہیوی ٹریفک کو متعین اوقات تک محدود رکھا جائے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ادھر پولیس اور ٹریفک ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ شہر میں ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت پر نئی پالیسی کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو کراچی میں سڑکوں پر اموات کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔