مولانا فضل الرحیم اشرفی انتقال، علما اور سیاسی رہنماﺅں کی گہرے غم و افسوس، نمازِ جنازہ جامعہ اشرفیہ میں ادا کی جائے گی
پاکستان کے ممتاز دینی عالم، رہنما اور جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، جس کی خبر نے ملک بھر میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔
1/5/20261 min read


پاکستان کے ممتاز دینی عالم، رہنما اور جامعہ اشرفیہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، جس کی خبر نے ملک بھر میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔ نجی ٹی وی سما نیوز نے موصولہ اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ مولانا اشرفی کی وفات سے نہ صرف ان کے شاگرد، اہل خانہ اور حامی متاثر ہوئے ہیں بلکہ ملک کے علمی، روحانی اور مذہبی حلقوں نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی گزشتہ کئی عرصے سے بیماری کا شکار تھے اور علاج کے باوجود صحت یابی ممکن نہ ہو سکی۔ ان کی موت نے دینی حلقوں میں ایک بڑا خلا چھوڑ دیا ہے، جہاں انہیں ایک مشفق، با اصول اور علم و حکمت سے بھرپور شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا رہا ہے۔ مولانا اشرفی نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ تعلیم، تبلیغ، سماجی خدمات اور اسلامی تعلیمات کے فروغ میں صرف کیا، جس کی وجہ سے وہ طلاب، علماء اور عوام میں بے حد مقبول تھے۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر بھی مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مولانا کی وفات سے دینی و تعلیمی میدان ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے خاندان کو صبر جمیل عطا کرے۔
اسی طرح صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے بھی مولانا فضل الرحیم اشرفی کے انتقال پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا اشرفی نے دینی اور سماجی خدمات کے شعبے میں جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ عبدال علیم خان نے کہا کہ علم کی وہ شمع جو مولانا نے روشن کی، وہ ہمیشہ فروزاں رہے گی اور ان کی علمی خدمات نے ہزاروں افراد کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائی ہے۔
دینی سکالر مفتی محمد زبیر نے بھی مولانا فضل الرحیم اشرفی کی وفات پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کا انتقال علمی و روحانی دنیا کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اشرفی نہایت مشفق، دلاویز اور بااخلاق شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے ہر دور میں علم، رواداری اور محبت کا درس دیا۔ مفتی زبیر نے کہا کہ ان کے علمی و دینی خیالات نے نوجوانوں کو مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کی اور وہ ہمیشہ ایک مثالی شخصیت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی کی نمازِ جنازہ آج دوپہر 2 بجے جامعہ اشرفیہ میں ادا کی جائے گی، جہاں علماء، شاگرد، سیاسی رہنما، سماجی شخصیات اور عوام کی ایک بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کی تدفین جامعہ اشرفیہ کے قبرستان میں کی جائے گی، جہاں ان کے چاہنے والے اور شاگرد ان کے ساتھ اپنی آخری عقیدت کا اظہار کریں گے۔
عالمی سطح پر بھی مولانا اشرفی کے انتقال پر تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جن میں مختلف ممالک کے علماء، طلبا، اور علاقائی تنظیموں نے مولانا کی خدمات کو سراہا ہے اور ان کے درجات کی بلندی کی دعا کی ہے۔ ان پیغامات میں کہا گیا ہے کہ مولانا اشرفی نے ہمیشہ اسلام کے اصولوں اور امن کے فروغ کے لیے کام کیا اور ان کی یاد محروم طبقات کے مسائل کے حل میں بھی رہنمائی فراہم کرتی رہے گی۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی کی زندگی، تبلیغ اور عوامی خدمات کی روشنی میں ان کی تعلیمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گی، اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پورا کرنے کے لیے علماء اور طالبِ علموں کو علم و عمل کے راستے پر گامزن رہنا ہوگا۔
