نادرا فیملی ٹری سے غیر متعلقہ افراد کو ہٹانے کا نیا آن لائن طریقہ—شہریوں کیلئے بڑا مسئلہ حل
پاکستان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) شہریوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا قومی ادارہ ہے
11/24/20251 min read


پاکستان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) شہریوں کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کا سب سے بڑا قومی ادارہ ہے، اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ہر شہری کیلئے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سرٹیفکیٹ میں خاندان کے تمام وہ افراد شامل ہوتے ہیں جو باضابطہ طور پر نادرا میں رجسٹر ہوں۔ لیکن حالیہ برسوں میں متعدد شہریوں نے شکایت کی کہ ان کے فیملی ٹری میں ایسے افراد بھی شامل دکھائی دے رہے ہیں جن کا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ غلطیاں زیادہ تر تکنیکی خرابی، غلط اندراج یا کسی کے غیر قانونی مداخلت کے باعث سامنے آتی ہیں، جس کے بعد شہری اپنی شناختی معلومات کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ماضی میں ایسی غلطیوں کی نشاندہی کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ 2025 سے پہلے شہریوں کو اپنا فیملی ریکارڈ چیک کرانے کیلئے نادرا دفتر جانا پڑتا تھا اور اس کیلئے باقاعدہ فیس بھی ادا کرنا ہوتی تھی۔ غلطی ثابت ہونے کے بعد متعلقہ افسران کی منظوری، تصحیح اور دوبارہ اندراج کا عمل وقت طلب اور پیچیدہ تصور کیا جاتا تھا۔ تاہم اب نادرا نے اس پورے نظام کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے جس سے شہریوں کو اپنے خاندان کا مکمل ریکارڈ گھر بیٹھے دیکھنے اور غلط اندراج کی فوری نشاندہی کرنے کی سہولت مل گئی ہے۔
نادرا کی جانب سے متعارف کردہ نیا فیملی ویریفیکیشن سسٹم ’پاک آئی ڈی‘ موبائل ایپ کے ذریعے 24 گھنٹے مفت دستیاب ہے، جس کے تحت ہر شہری اپنے شناختی کارڈ نمبر سے لاگ اِن کر کے اپنی فیملی ٹری دیکھ سکتا ہے۔ اس ڈیجیٹل سہولت نے پہلی بار عوام کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بغیر کسی فیس یا دفتر کے چکر لگائے یہ معلوم کر سکیں کہ ان کے فیملی سرٹیفکیٹ میں کوئی غیر متعلقہ فرد شامل تو نہیں۔ اگر کسی شہری کو معلوم ہو جائے کہ اس کے خاندانی ریکارڈ میں کوئی اجنبی فرد شامل کیا گیا ہے تو وہ اسی وقت درخواست درج کر کے اس غلط اندراج کو ہٹوانے کا عمل شروع کر سکتا ہے۔
آن لائن رپورٹ درج کرنے کیلئے صارف کو پاک آئی ڈی ایپ میں موجود ’فیملی ویریفیکیشن‘ سیکشن میں جا کر غلط اندراج کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے، جس کے بعد یہ درخواست نادرا کے متعلقہ افسر کے پاس بھیج دی جاتی ہے۔ افسر ریکارڈ کی جانچ پڑتال، خاندان کے دیگر افراد سے رابطے اور شناختی معلومات کی تصدیق کے بعد غلط اندراج کو مستقل طور پر حذف کر دیتے ہیں۔ اس پورے عمل کے مکمل ہونے پر صارف کو ایپ میں نوٹیفکیشن بھی موصول ہوتا ہے، جبکہ اپ ڈیٹ ہونے والا فیملی ٹری دوبارہ دیکھ کر تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ نئی سروس نہ صرف شہریوں کیلئے سہولت فراہم کرتی ہے بلکہ فریکشن شناخت، جعلی ریکارڈ، غیر قانونی سرٹیفکیٹس اور جعل سازی کے امکانات کو بھی نمایاں حد تک کم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ڈیجیٹل اقدام سے نہ صرف شفافیت بڑھی ہے بلکہ لاکھوں شہریوں کو غیر ضروری اخراجات اور وقت کے ضیاع سے بھی نجات ملی ہے۔ نادرا کا مؤقف ہے کہ فیملی ریکارڈ کی درستگی قومی سکیورٹی، وراثتی معاملات، شناختی کارڈ کے اجرا اور پاسپورٹ کی معلومات کیلئے نہایت اہم ہے، اسی لیے آن لائن تصدیق اور غلطی کی فوری اصلاح کو ترجیح دی گئی ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ باقاعدگی سے پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے اپنا فیملی ریکارڈ چیک کرتے رہیں تاکہ کسی غلطی، مشکوک اندراج یا غیر قانونی مداخلت کا بروقت پتہ چل سکے۔ نادرا کے مطابق اب ہر شخص کیلئے اپنا خاندانی ڈیٹا دیکھنا اور اسے درست رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور محفوظ ہو چکا ہے۔
