’’ناردرن آئرلینڈ میں بلیو ٹنگ وائرس کی تشخیص: مویشیوں میں خطرے کی گھنٹی، تجارتی پابندیوں کا خدشہ بڑھ گیا‘‘
ناردرن آئرلینڈ میں چرنے والے جانوروں کو متاثر کرنے والی خطرناک بیماری بلیو ٹنگ (Blue Tongue BTV-3) کی تشخیص نے مویشیوں کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
12/8/20251 min read


ناردرن آئرلینڈ میں چرنے والے جانوروں کو متاثر کرنے والی خطرناک بیماری بلیو ٹنگ (Blue Tongue BTV-3) کی تشخیص نے مویشیوں کے شعبے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ بلیو ٹنگ ایک ایسا وائرل انفیکشن ہے جو گائے، بکری، بھیڑ، ہرن، اونٹ اور دیگر مویشیوں کو متاثر کرتا ہے۔ بیماری کا نام اس علامت سے جڑا ہے جس میں شدید کیسز کے دوران جانور کی زبان، منہ کی جھلیاں اور کچھ نرم بافتے سوج کر نیلے ہو جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی جسم کے اندرونی خون بہنے اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سامنے آتی ہے، جو بعض صورتوں میں جانور کی جان بھی لے سکتی ہے۔
29 اکتوبر کو ناردرن آئرلینڈ کے محکمہ زراعت، ماحولیات اور دیہی امور (DAERA) نے ایک اہم بیان میں بتایا کہ معمول کی نگرانی کے دوران ایک ذبح خانے میں دو گائیوں میں یہ وائرس پایا گیا۔ یہ دونوں جانور کاؤنٹی ڈاؤن کے قریب بینگر میں واقع ایک فارم سے لائے گئے تھے، جہاں اب مزید ٹیسٹنگ اور مکمل جانچ کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق ابتدائی رپورٹیں بیماری کے پھیلاؤ کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلیو ٹنگ وائرس فوڈ سیفٹی کے لحاظ سے انسانوں کے لیے خطرناک نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ذریعے دودھ یا گوشت کے استعمال سے انسان متاثر ہوتے ہیں، مگر مویشیوں کے لیے یہ مرض انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وائرس جانور کے جسم میں شدید بخار، بھوک میں کمی، سوجن، سانس کی دشواری، منہ کے چھالے اور اندرونی خون رسنے جیسے خطرناک اثرات پیدا کرتا ہے۔ شدید متاثرہ جانور اکثر کھانا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے نہ صرف دودھ اور گوشت کی پیداوار پر اثر پڑتا ہے بلکہ اموات بھی واقع ہوسکتی ہیں۔
اس بیماری کے پھیلاؤ سے مویشیوں کی آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ یورپی قوانین کے مطابق متاثرہ یا مشتبہ علاقوں سے جانوروں کی نقل و حمل پر فوری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ اس کا اثر مقامی فارمرز کے ساتھ ساتھ برآمدات پر بھی پڑے گا، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کے مزید کیسز سامنے آتے ہیں تو بڑے پیمانے پر کنٹرول زونز قائم کیے جا سکتے ہیں، جن میں جانوروں کی خرید و فروخت، نقل و حرکت اور ذبح تک محدود ہو سکتی ہے۔
DAERA نے اس واقعے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے فارمرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے جانوروں کی علامات پر گہری نظر رکھیں، کسی بھی غیر معمولی حالت کی فوری رپورٹ کریں اور مچھروں اور کیڑوں کے خلاف حفاظتی اقدامات ضرور کریں، کیونکہ یہ وائرس زیادہ تر مچھروں یا خاص قسم کے کیڑے (midges) کے ذریعے پھیلتا ہے۔
بلیو ٹنگ کی تشخیص نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ جانوروں کی تواتر سے نگرانی، بروقت ویکسینیشن اور حفاظتی اقدامات نہ صرف ملکی زراعت بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ حکام اس وقت مکمل جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا وائرس مقامی سطح پر پھیلا ہے یا بیرون ملک سے آیا، اور آئندہ ہفتوں میں اس حوالے سے مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔
