Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کی فضیلت صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ اس کی برکتیں صحابہؓ، تابعینؒ اور اولیائے کرامؒ کی زندگیوں میں عملی واقعات کی صورت میں نمایاں نظر آتی ہیں۔

نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کی فضیلت صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ اس کی برکتیں صحابہؓ، تابعینؒ اور اولیائے کرامؒ کی زندگیوں میں عملی واقعات کی صورت میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ درود شریف وہ عظیم عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ﷺ دونوں کے قریب کر دیتی ہے۔

1/9/20261 min read

نبی کریم ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کی فضیلت صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ اس کی برکتیں صحابہؓ، تابعینؒ اور اولیائے کرامؒ کی زندگیوں میں عملی واقعات کی صورت میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ درود شریف وہ عظیم عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ﷺ دونوں کے قریب کر دیتی ہے۔

ایک مشہور واقعہ حضرت اُبی بن کعبؓ کا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنی دعا میں کتنا حصہ آپ پر درود پڑھنے کے لیے مقرر کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا چاہو۔ انہوں نے کہا: چوتھائی حصہ؟ فرمایا: اگر بڑھاؤ تو بہتر ہے۔ یہاں تک کہ حضرت اُبیؓ نے عرض کیا: اگر میں اپنی ساری دعا ہی آپ پر درود پڑھنے میں لگا دوں؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا: پھر تمہاری تمام پریشانیاں دور کر دی جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ درود شریف مشکلات کے حل اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔

ایک اور واقعہ حضرت عمر فاروقؓ سے منسوب ہے کہ آپؓ فرمایا کرتے تھے: دعا آسمان و زمین کے درمیان معلق رہتی ہے، جب تک نبی ﷺ پر درود نہ بھیجا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف دعا کی قبولیت کی کنجی ہے۔

اولیائے کرام کے حالات میں بھی درود شریف کی برکتیں نمایاں ہیں۔ امام شافعیؒ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کسی مسئلے میں مشکل محسوس کرتے تو کثرت سے درود شریف پڑھتے، اللہ تعالیٰ ان پر مسئلہ کھول دیتا۔ خود امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی علمی مشکلات کا حل درود شریف میں پایا۔

ایک بزرگ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ سخت مالی تنگی میں مبتلا تھے۔ کسی نیک شخص نے انہیں نصیحت کی کہ روزانہ ایک خاص تعداد میں درود شریف پڑھا کریں۔ چند ہی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رزق کے ایسے دروازے کھول دیے جن کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ درود شریف رزق میں وسعت کا سبب بنتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا ہوگا۔ یہ سعادت کسی مال یا منصب سے نہیں بلکہ درود شریف کی کثرت سے حاصل ہوتی ہے۔

مختصر یہ کہ درود شریف صرف ایک عبادت نہیں بلکہ زندگی کے ہر مسئلے کا حل ہے۔ اس سے ایمان تازہ ہوتا ہے، دل منور ہوتا ہے، دعا قبول ہوتی ہے، پریشانیاں دور ہوتی ہیں اور نبی کریم ﷺ کی محبت نصیب ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معمولات میں درود شریف کو خاص مقام دیں، خاص طور پر فجر کے بعد، مغرب کے بعد، جمعہ کے دن اور ہر دعا سے پہلے اور بعد درود پڑھنے کی عادت اپنائیں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔