پاکستان اور سعودی عرب میں بڑی عسکری پیش رفت، جنرل فیاض الروایلی کا جی ایچ کیو میں اہم دورہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹیجک تعاون کے نئے باب کی بنیاد اُس وقت پڑی جب
11/25/20251 min read


پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹیجک تعاون کے نئے باب کی بنیاد اُس وقت پڑی جب سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حمید الروایلی نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا اہم اور باضابطہ دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین عسکری تعاون، علاقائی سیکیورٹی ماحول اور مستقبل کی اسٹریٹیجک ترجیحات پر گہرائی سے مشاورت کی گئی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں جیو اسٹریٹیجک صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دونوں ممالک خطے کے امن و استحکام کے لیے قریبی رابطوں کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، مذہبی اور دفاعی تعلقات کو خصوصی طور پر سراہا اور کہا کہ دونوں برادر ممالک نے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاع، ٹریننگ، سیکیورٹی, جدید عسکری ٹیکنالوجی اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ ملاقات میں نہ صرف دفاعی شراکت داری کو وسیع کرنے پر اتفاق ہوا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ اسٹریٹیجک مفادات کے تحفظ پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔
دوسری جانب جنرل فیاض الروایلی نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خطے میں امن کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ فوجی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعاون کو عملی اقدامات کے ذریعے مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط پہلے ہی ٹریننگ ایکسچینج، عسکری مشقوں، ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے تبادلے اور انسداد دہشت گردی تعاون پر مبنی ہیں، جنہیں آئندہ مہینوں میں مزید بڑھانے کی اُمید کی جا رہی ہے۔
یہ ملاقات اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب جلد ہی نئی دفاعی شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور اسٹریٹیجک فیصلوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی رابطے نے مستقبل میں پاک۔سعودی تعلقات کو نئی سمت دینے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں، جس سے خطے میں طاقت کا توازن اور سیکیورٹی تعاون مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔
