Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

پاکستان شاہینز کی جیت کے قریب آ کر شکست، بنگلہ دیش اے نے معجزانہ واپسی کے ساتھ رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی اپنے نام کر لیا

.رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے سنسنی خیز فائنل میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب پاکستان شاہینز کی جانب سے دیا گیا

11/24/20251 min read

a man riding a skateboard down the side of a ramp
a man riding a skateboard down the side of a ramp

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے سنسنی خیز فائنل میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب پاکستان شاہینز کی جانب سے دیا گیا 126 رنز کا ہدف بنگلہ دیش اے کے لیے تقریباً ناممکن نظر آ رہا تھا۔ دوحہ کے کرکٹ اسٹیڈیم میں 96 کے مجموعے پر بنگلہ دیش اے کی نو وکٹیں گر چکی تھیں اور پاکستان فتح سے صرف ایک گیند دُور کھڑا نظر آتا تھا۔ شائقین پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے، مہمانوں کی گیلری میں موجود چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کوچ اعجاز جونیئر پُرخوشی دکھائی دے رہے تھے جبکہ بنگلہ دیشی سپورٹرز مایوسی کے عالم میں اسٹیڈیم چھوڑنے لگے تھے۔ ہر طرف یہی تاثر تھا کہ اب ٹرافی پاکستان شاہینز کی ہی ہوگی۔

لیکن کرکٹ کی سب سے بڑی خوبصورتی، یعنی غیر متوقع انجام، ایک بار پھر سامنے آیا۔ انیسویں اوور کے لیے کپتان عرفان نیازی نے گیند شاہد عزیز کے حوالے کی، جو تین اوورز میں 27 رنز دے کر اس میچ کے سب سے مہنگے بولر ثابت ہو رہے تھے۔ بنگلہ دیش اے کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے کھلاڑیوں کو صرف ایک معجزے کی امید تھی اور یہی امید عبدالغفار ثقلین اور رپن منڈول کی شکل میں پوری ہوتی دکھائی دی۔ دونوں بیٹرز نے انتہائی دباؤ کے عالم میں بولرز پر بھرپور حملہ کیا اور ٹارگٹ کے قریب پہنچ کر اسٹیڈیم کا ماحول یکسر بدل دیا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے چہروں پر حیرانی اور پریشانی نمایاں ہونے لگی جبکہ بنگلہ دیشی تماشائی جو کچھ دیر پہلے اسٹیڈیم چھوڑ رہے تھے، واپس اپنی نشستوں کی طرف دوڑتے ہوئے دکھائی دیے۔ ثقلین اور منڈول نے آخری اووروں میں پاکستان کی تمام امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے ناقابل یقین شراکت قائم کی، جس نے میچ کو ایک ایسے رخ پر ڈال دیا جہاں سے واپسی ممکن نہ رہی۔ چند گیندوں کے اندر دونوں بیٹرز نے وہ مشکل رنز بٹور لیے جو بنگلہ دیش کے ہاتھوں تقریباً نکل چکے تھے۔

میچ کے آخری لمحات میں پاکستان اپنی گرفت قائم نہ رکھ سکا اور بنگلہ دیش اے نے ایک وکٹ سے یہ مقابلہ جیت کر رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کی ٹرافی اپنے نام کر لی۔ اسٹیڈیم میں مایوسی اور خوشی کے ملے جلے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایک طرف پاکستانی کھلاڑیوں کو یقین نہ آ رہا تھا کہ فتح ہاتھ آ کر نکل گئی، جبکہ دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم اور ان کے سپورٹرز تاریخی کامیابی کا جشن منا رہے تھے۔

کرکٹ ماہرین اس میچ کو ٹورنامنٹ کا سب سے ناقابلِ یقین فائنل قرار دے رہے ہیں، جس میں آخری وکٹ پر جیت نے سب کو حیران کر دیا۔ پاکستان شاہینز کو اپنی حکمت عملی اور آخری اوورز کے فیصلوں پر دوبارہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے نوجوان کھلاڑیوں نے ثابت کیا ہے کہ کرکٹ میں آخری گیند تک کچھ بھی

ممکن ہے۔