🔥پارلیمنٹ میں دلچسپ لمحہ: ایم این اے کی جیب سے پیسے گرنے پر 12 اراکین نے دعویٰ کر دیا—ایمانداری کا ”اعلیٰ معیار“ زیرِ بحث
اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے دوران آج ایک ایسا غیر متوقع اور دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے ایوان کے ماحول کو لمحوں میں تبدیل کر دیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی خوب جگہ بنائی۔
12/9/20251 min read


اسلام آباد میں ہونے والے پارلیمانی اجلاس کے دوران آج ایک ایسا غیر متوقع اور دلچسپ واقعہ پیش آیا جس نے ایوان کے ماحول کو لمحوں میں تبدیل کر دیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر بھی خوب جگہ بنائی۔ اس واقعے کو کئی لوگ پاکستان کے قانون ساز ادارے میں موجود ’’ایمانداری کے معیار‘‘ کا دلچسپ مگر معنی خیز اظہار قرار دے رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران اچانک پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جیب سے کچھ کرنسی نوٹ زمین پر گر گئے۔ اسپیکر نے معمول کے مطابق کارروائی روک کر پوچھا: ’’یہ پیسے کس کے ہیں؟‘‘ حیرت انگیز طور پر سوال ختم ہوتے ہی تقریباً 12 ارکان فوراً کھڑے ہوگئے اور یک زبان ہو کر کہنے لگے کہ رقم ان کی ہے۔ ایوان اس صورتحال پر قہقہوں سے گونج اٹھا اور کچھ دیر کے لیے ایک ہلکا پھلکا ماحول قائم ہو گیا۔
چند منٹ بعد اصل صورتحال سامنے آئی کہ یہ رقم دراصل اقبال آفریدی ہی کی تھی جو جیب سے نکل کر میز کے پاس زمین پر جا گری تھی۔ ارکان کے یکے بعد دیگرے دعوے کرنے اور پھر فوراً اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے نے ایوان میں موجود ہر شخص کو حیرت میں ڈال دیا۔ اقبال آفریدی نے مسکراتے ہوئے رقم اپنی تحویل میں لی اور اجلاس دوبارہ اپنی کارروائی کی جانب بڑھ گیا، مگر اس واقعے کی بازگشت ایوان سے نکل کر عوامی حلقوں تک پہنچ گئی۔
سیاسی ماہرین اس منظر کو ایک منفرد اور علامتی واقعہ قرار دے رہے ہیں، جس نے یہ دلچسپ بحث چھیڑ دی کہ پاکستان کی سیاست میں شفافیت، اعتماد اور اخلاقی اقدار کا معیار کس مقام پر کھڑا ہے۔ عوامی نمائندوں کا ایک ہی وقت میں مالی رقم پر دعویٰ کرنا بظاہر ایک مزاحیہ لمحہ تھا، لیکن سوشل میڈیا صارفین نے اسے ’’ایوان کی حقیقی تصویر‘‘ سے بھی جوڑ دیا۔ کئی صارفین نے طنزیہ تبصرے کیے کہ یہ پہلا موقع ہے جب اتنے زیادہ ارکان کسی ایک چیز پر فوری اتفاق کرتے نظر آئے۔ کچھ نے اسے ’’قومی اتحاد کا کم از کم ایک عملی مظاہرہ‘‘ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی مزاح کا بہترین نمونہ کہا۔
لیکن اس واقعے کا ایک سنجیدہ پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پارلیمنٹ جیسا حساس اور مقدس ادارہ جہاں ملکی فیصلے کیے جاتے ہیں، وہاں چھوٹی سے چھوٹی حرکت بھی عوامی رائے پر اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس واقعے نے ہلکی پھلکی تفریح کے باوجود اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد کے حوالے سے سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ کچھ ارکان کے فوری دعوے کو لطیفہ سمجھا گیا، مگر بعض حلقوں کی رائے ہے کہ عوام کے مسائل، مہنگائی اور معاشی بحران کے دور میں ایسے مناظر پارلیمانی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اس واقعے نے ملک بھر میں گفتگو کا ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔ ایک طرف لوگوں نے اسے پارلیمانی روایات میں ایک خوشگوار وقفہ قرار دیا ہے تو دوسری طرف اسے سیاست دانوں کے کردار اور رویوں پر ایک دلچسپ مگر اہم سوالیہ نشان بھی سمجھا جا رہا ہے۔ اقبال آفریدی نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اس صورتحال پر حیران ہوئے کہ چند کرنسی نوٹ اتنے زیادہ دعوے پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ “کم از کم آج ایوان میں اتفاقِ رائے تو دیکھنے کو ملا۔”
یہ غیر معمولی تقریباً مزاحیہ واقعہ یقیناً خبروں اور سوشل میڈیا پر مزید تبصروں کا باعث بنے گا، تاہم اس نے ایک بار پھر یہ حقیقت بھی یاد دلائی ہے کہ پارلیمنٹ کا ہر لمحہ عوام کی نظر میں ہوتا ہے—چاہے وہ سنجیدہ قانون سازی ہو یا محض ایک گرنے
والا نوٹ۔
