پشاور: ایف سی ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردانہ حملہ — ۳ اہلکار شہید، تین حملہ آور ہلاک
پشاور — پیر کی صبح دارالحکومت خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں واقع Federal Constabulary (ایف سی) کے ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گردوں نے خودکش و مسلح حملہ کیا،
11/26/20251 min read


پشاور — پیر کی صبح دارالحکومت خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں واقع Federal Constabulary (ایف سی) کے ہیڈ کوارٹرز پر دہشت گردوں نے خودکش و مسلح حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس اور فورسز نے اطلاع دی ہے کہ پہلے ایک خودکش بمبار نے ہیڈکوارٹرز کے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے بعد دو دیگر دہشت گرد عمارت میں داخل ہوئے۔ مقامی پولیس سربراہ Mian Saeed Ahmad کے مطابق حملہ آوروں کے خلاف فورسز نے فوری ردعمل دیا اور تقریباً 15 سے 20 منٹ تک جاری شدید فائرنگ کے بعد تینوں حملہ آور ہلاک کر دیے گے۔
واقعہ صبح 8 بجے کے قریب پیش آیا، جب ہیڈ کوارٹرز میں معمول کی صبح کی پریڈ جاری تھی اور تقریباً 150 سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔ بمبار نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اُڑایا، جس سے گیٹ کے قریب موجود تین اہلکار شہید ہو گئے۔ اس کے بعد اندر گھُسنے کی کوشش کرنے والے دو حملہ آوروں کو فورسز نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں یعنی Lady Reading Hospital اور Khyber Teaching Hospital منتقل کیا جہاں زخمیوں کی حالت تسلی بخش بتائی گئی ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمیوں میں ایف سی اہلکار اور دیگر شہری شامل ہیں۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ تین حملہ آور بھی مارے گئے، جن میں سے ایک نے گیٹ پر خودکش دھماکہ کیا جبکہ باقی دو داخلے کی کوشش کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس دوران ہیڈکوارٹرز کا علاقہ سیل کر کے کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا ہے۔
حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے تاحال قبول نہیں کی۔ تاہم کچھ ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ حملہ کرنے والے شدت پسند عناصر سکیورٹی فورسز اور ریاست کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنا چاہتے تھے، اور یہ واقعہ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستانی سکیورٹی اداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کا حصہ ہے۔
یہ واقعہ ملک میں سکیورٹی چیلنجز اور عسکریت پسندی کے خلاف جاری جنگ کے دوران پیش آیا ہے — حکام اور قومی قیادت نے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عہد دہرایا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک افراد اور سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو رو
کا جا سکے۔
