Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

’’پوتن کا اہم دورۂ بھارت: 16 نئے معاہدے، دفاعی تعاون میں توسیع اور 100 ارب ڈالر تجارت کا ہدف مقرر‘‘

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کو خطے کی سفارتی اور اقتصادی صورتحال کے تناظر میں ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

12/8/20251 min read

روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے حالیہ دورۂ بھارت کو خطے کی سفارتی اور اقتصادی صورتحال کے تناظر میں ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والی اس اہم ملاقات نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نئی طاقت بخشی، بلکہ مستقبل قریب میں مختلف شعبوں میں تعاون کے اہداف بھی طے کیے گئے۔ دورے کے دوران بھارت اور روس نے صحت، میری ٹائم تعاون، فرٹیلائزر، کسٹمز، سائنس اور میڈیا سمیت وسیع تر شعبوں میں 16 معاہدوں پر دستخط کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی بنیاد بنائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر پوتن اور بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ملاقات میں دفاعی شراکت داری خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی پیداوار میں مشترکہ منصوبوں، اسلحہ سازی، جدید فوجی ٹیکنالوجی اور تربیتی پروگرامز کے دائرہ کار کو بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ بھارت طویل عرصے سے روسی دفاعی سازوسامان کا اہم خریدار ہے، اور اس دورے نے اس تعاون کو مزید گہرا کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔ ملاقات میں جوہری توانائی کے پراجیکٹس پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی اور دونوں ممالک نے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

اقتصادی تعاون اس دورے کا ایک اور مرکزی پہلو تھا۔ روس اور بھارت نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ معاشی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی، خصوصاً توانائی، معدنیات، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے راستے کھولے جائیں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت تجارت کا حجم تقریباً 70 ارب ڈالر ہے، مگر فریقین نے اگلے پانچ برس میں اسے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تجارت میں اضافے سے نہ صرف دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کو فائدہ ہوگا بلکہ خطے میں اقتصادی استحکام کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

اس دورے سے قبل بھارت نے روس کے ساتھ توانائی کی شراکت داری بڑھانے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا تھا، کیونکہ بھارت خام تیل کے بڑے درآمد کنندہ ممالک میں سے ایک ہے۔ روسی فریق نے بھی بھارتی مارکیٹ کو اپنی مصنوعات کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے مستقبل میں سپلائی چین کو مضبوط بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پوتن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب عالمی سطح پر طاقتوں کی از سرِ نو صف بندی جاری ہے۔ ایسے ماحول میں روس اور بھارت کا ایک دوسرے کے قریب آنا خطے میں سیاسی संतुलन کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی معاملات میں تعاون اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت ہی پائیدار شراکت داری ممکن ہے۔

صدر پوتن کے اس دورے نے ثابت کیا ہے کہ روس اور بھارت آنے والے برسوں میں نہ صرف دفاعی، معاشی اور سائنسی شعبوں میں ایک دوسرے کے اسٹریٹجک شراکت دار رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک دوسرے کی اہمیت میں اضافہ کریں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے نئے باب کی طرف ایک اہم قدم سمجھا

جا رہا ہے۔