"پھٹی ہوئی ڈائری کا آخری صفحہ — ایک ایسی پاکستانی کہانی جو پڑھ کر سانسیں تھم جائیں"
یہ بات اکثر لوگ جانتے ہیں کہ مری کے جنگلات میں سرد راتوں میں عجیب سی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان سرسراہٹوں کے پیچھے ایک حقیقت چھپی ہے، جو کبھی کسی رپورٹ یا فائل کا حصہ نہیں بنی۔ یہ کہانی بھی اسی حقیقت کے آس پاس گھومتی ہے—ایک ایسی حقیقت جسے برسوں تک خاموش رکھا گیا۔
12/6/20251 min read


یہ بات اکثر لوگ جانتے ہیں کہ مری کے جنگلات میں سرد راتوں میں عجیب سی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان سرسراہٹوں کے پیچھے ایک حقیقت چھپی ہے، جو کبھی کسی رپورٹ یا فائل کا حصہ نہیں بنی۔ یہ کہانی بھی اسی حقیقت کے آس پاس گھومتی ہے—ایک ایسی حقیقت جسے برسوں تک خاموش رکھا گیا۔
لاہور کا رہائشی عادل، جو ایک فری لانس رائٹر تھا، ایک نئی کتاب کے لیے حقیقت پر مبنی سسپنس کہانیاں جمع کر رہا تھا۔ اسے ایک پراسرار ای میل ملی جس میں صرف ایک جملہ لکھا تھا:
“اگر سچ جاننا ہے تو مری کی گپھاوں میں دفن اس ڈائری کو تلاش کرو، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔”
عادل نے پہلے تو اسے مذاق سمجھا، مگر ساتھ ایک تصویر بھی لگی تھی—ایک پھٹی ہوئی ڈائری کا آخری صفحہ، جس پر خون جیسے نشان موجود تھے۔ یہی نشان اسے لا تعلق رہنے نہ دے سکے۔
وہ اگلی ہی صبح مری روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے مقامی گائیڈز سے پوچھا، مگر سب نے ایک ہی جواب دیا:
“صاحب! کچھ جگہیں خدا کے لیے چھوڑ دیں… وہاں مت جائیں۔”
لیکن عادل رکنے والا نہیں تھا۔ ایک مقامی بوڑھا شخص اسے ملا جو ماضی کے کئی راز جاننے والا لگتا تھا۔ وہ آہستہ آواز میں بولا:
“جس ڈائری کو تم ڈھونڈ رہے ہو، اس کا مالک پندرہ سال پہلے لاپتا ہوا تھا۔ اس کی لاش آج تک نہیں ملی۔ لوگ کہتے ہیں کہ اُس نے گپھا میں کچھ ایسا لکھ دیا تھا جو کسی کو معلوم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر تم گئے… تو ہو سکتا ہے تم بھی واپس نہ آؤ۔”
عادل نے دل پر ہاتھ رکھا اور جنگل کی طرف چل پڑا۔ رات کے اندھیرے میں صرف ایک ٹارچ تھی، اور دور کہیں جانوروں کی آوازیں۔ مگر اصل خوف تو اس وقت شروع ہوا جب اسے گپھا کا دہانہ نظر آیا—اتنا خاموش جیسے صدیوں سے کوئی سانس نہ لی ہو۔
گپھا میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا جسم میں اترنے لگی۔ پتھروں پر کسی کے گھسٹنے کی آواز بار بار سنائی دیتی، مگر روشنی ڈالنے پر کچھ نہیں دکھتا۔ اس نے چند قدم آگے بڑھائے تو وہ ایک چھوٹے سے کمرے جیسے حصے میں پہنچا۔ سامنے ایک لکڑی کا صندوق پڑا تھا، جس پر عجیب نشانات کندہ تھے۔
عادل نے صندوق کھولا تو اس میں وہی پھٹی ہوئی ڈائری رکھی تھی۔ مگر جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، گپھا میں گونجتی آواز اب واضح ہونے لگی:
“یہ سچ کسی انسان کے جاننے کے لیے نہیں تھا…”
عادل کے ہاتھ لرزنے لگے۔ اس نے ڈائری کھولی۔ پہلے چند صفحات عام تھے، مگر آخری صفحہ ایسا تھا جیسے کسی نے جلدی میں خوف کے عالم میں لکھا ہو—
“جو یہ پڑھ رہا ہے، وہ جان لے کہ یہ آواز انسان کی نہیں… یہ اس جگہ کی روح ہے۔ یہاں جو بھی سچ جاننے آتا ہے، وہ اپنے سائے سمیت غائب ہو جاتا ہے…”
اسی لمحے عادل کی ٹارچ بند ہو گئی۔ گپھا پوری تاریکی میں ڈوب گئی۔ اور پھر… وہی گھسٹنے کی آواز قریب آنے لگی، بہت قریب…
اس کی سانس رکنے لگے، بدن ساکن۔ اس نے موبائل کا فلیش آن کیا تو سامنے ایک سائے کی جھلک دکھائی دی، جو انسانی شکل تو رکھتا تھا مگر آنکھیں جیسے سوراخ… خالی اور گہری۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ ڈائری اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری اور آخری صفحے پر لکھے الفاظ روشنی میں جھلملانے لگے۔
عادل نے باہر بھاگنے کی کوشش کی مگر گپھا کا دہانہ جیسے بند ہو چکا تھا۔ اس کے گھٹنے پتھروں سے ٹکرائے، ہاتھ زخمی ہو گئے، لیکن وہ مسلسل دہانے کی طرف دوڑتا رہا۔ اسی دوران سایہ اس کے بالکل پیچھے آ چکا تھا—اس کی سرد سانسیں عادل کی گردن کو چھو رہی تھیں۔
اتنے میں باہر سے ایک خچر بان کی چیخ سنائی دی:
“بیٹا باہر آؤ! جلدی!”
عادل نے آخری زور لگایا اور دہانے سے باہر نکل آیا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو گپھا ایسے خاموش تھی جیسے صدیوں سے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ نہ سایہ، نہ آواز—مگر زمین پر وہ ڈائری کھلی پڑی تھی، اور آخری صفحے پر ایک نیا جملہ لکھا جا چکا تھا:
“یہ صفحہ اب تمہاری قسمت لکھے گا…”
عادل لاہور واپس تو آ گیا، مگر اس رات کے بعد سے اُس کے کمرے کی دیوار پر ہر صبح ایک نیا نشان ابھرتا ہے—بالکل ویسا ہی جیسا گپھا کے صندوق پر بنا تھا۔ اُس نے یہ کہانی کبھی شائع نہیں کی… کیونکہ کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں
جو انسان کو جیتے جی ختم کر دیتے ہیں۔
