Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

"سعودی عرب کا تاریخی فیصلہ—غیر ملکیوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت، مکہ اور مدینہ میں بھی خریداری ممکن!"۔

سعودی عرب اپنے ریئل اسٹیٹ بازار کو جنوری میں غیر ملکی خریداروں کے لیے کھول رہا ہے جس کے تحت غیر سعودی افراد گھر، زمین، کھیت اور کمرشل یا انڈسٹریل جائیداد خرید سکیں گے۔ غیر ملکی افراد مکہ اور مدینہ میں بھی جائیداد خرید سکیں گے، لیکن صرف اس صورت میں کہ وہ مسلمان ہوں۔

12/1/20251 min read

سعودی عرب نے اپنی معاشی پالیسی میں تاریخی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے جنوری سے ملک کے ریئل اسٹیٹ شعبے کو باضابطہ طور پر غیر ملکی خریداروں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس انقلابی قدم کے بعد غیر سعودی افراد ملک میں گھر، اپارٹمنٹ، پلاٹ، زرعی زمین، کمرشل پراپرٹی اور انڈسٹریل یونٹس خرید سکیں گے، جو سعودی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کا باعث بنے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق نئی پراپرٹی پالیسی کے تحت غیر ملکیوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو سعودی شہریوں کو جائیداد کی ملکیت میں حاصل ہیں، البتہ کچھ شرائط اور قانونی تقاضے شامل کیے گئے ہیں تاکہ عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جائے۔ سعودی وزارتِ ہاؤسنگ اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں تاکہ جنوری سے اس کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے۔

اس فیصلے کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہروں میں بھی غیر ملکی مسلمانوں کو جائیداد خریدنے کی اجازت مل جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ اجازت صرف مسلمانوں تک محدود ہوگی اور اس کے لیے اضافی تصدیقی مراحل رکھے جائیں گے تاکہ مذہبی تقدس برقرار رہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس پر پوری مسلم دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ ان دونوں شہروں میں غیر ملکی ملکیت کے دروازے دہائیوں بعد کھل رہے ہیں۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ فیصلہ وژن 2030 کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت کو متنوع بنانا، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو عالمی سطح پر مسابقتی بنانا ہے۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ عالمی سرمایہ کار، کاروباری افراد اور تارکین وطن سعودی عرب کے جائیداد کے شعبے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔

پراپرٹی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے جائیداد کی قیمتوں میں تیزی، تعمیراتی صنعت میں تری اور ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ اس کے علاوہ غیر ملکی خریداروں کی آمد سے سعودی عرب کے بڑے شہروں—ریاض، جدہ، دمام اور الخبر—میں جدید طرز کے رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں تیزی متوقع ہے۔

سعودی حکومت اگلے چند ہفتوں میں خریداری کا مکمل طریقہ کار، فیس، اجازت نامے، دستاویزات اور قوانین جاری کرے گی، جنہیں عالمی سطح پر بروقت شیئر کیا جائے گا۔

یہ فیصلہ کئی دہائیوں کی پابندیوں کے بعد ایک بڑا سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اسے سعودی ریئل اسٹیٹ کے مستقبل کو بدلنے والا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔