سعودی عرب میں کریک ڈاؤن تیز: ایک ہفتے میں 21 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین گرفتار
سعودی عرب میں غیر قانونی اقامت، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن گزشتہ ہفتے کے دوران مزید تیز ہوگیا۔
11/29/20251 min read


سعودی عرب میں غیر قانونی اقامت، محنت اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ملک گیر کریک ڈاؤن گزشتہ ہفتے کے دوران مزید تیز ہوگیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 20 سے 26 نومبر کے درمیان مختلف شہروں اور سرحدی علاقوں میں مشترکہ ادارہ جاتی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 21 ہزار 134 غیر قانونی تارکین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں 13 ہزار 128 افراد اقامہ قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث تھے، جبکہ 4 ہزار 826 افراد نے مملکت کی سرحد غیر قانونی طریقے سے عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 180 افراد کو سعودی لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
سعودی حکام کے مطابق غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک ہزار 667 افراد کو بھی پکڑا گیا۔ گرفتار افراد میں 57 فیصد ایتھوپیا، 42 فیصد یمن اور ایک فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 31 افراد ایسے بھی تھے جو سعودی عرب سے غیر قانونی طور پر ہمسایہ ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں سرحدی فورسز نے موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو رہائش دینے، سفر میں مدد فراہم کرنے یا ملازمت دینے والے 13 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ افراد غیر قانونی سرگرمیوں کے نیٹ ورک کا حصہ تھے، جن کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 31 ہزار 91 غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں 29 ہزار 538 مرد اور ایک ہزار 553 خواتین شامل ہیں۔ حکام نے شہریوں اور مقیمین کو متنبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو سہولت فراہم کرنا یا انہیں چھپانا سنگین جرم ہے، جس پر بھاری جرمانے، قید اور ملک بدری کی سزائیں مقرر ہیں۔ سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ مملکت میں رہائش، ملازمت اور سفر کے قوانین کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔
