"شادی کی خوشیاں یا ماں کی میت؟— بھارت میں دل دہلا دینے والا واقعہ، بیٹوں نے میت گھر لانے سے انکار کر دیا"
اترپردیش کے ضلع جون پور میں پیش آنے والا یہ دل خراش واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ
11/25/20251 min read


اترپردیش کے ضلع جون پور میں پیش آنے والا یہ دل خراش واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لے آیا ہے کہ بڑھاپے میں تنہائی اور بے بسی کس حد تک انسان کو توڑ دیتی ہے۔ اولڈ ایج ہوم میں مقیم شبھا دیوی کی وفات کے بعد جب انتظامیہ نے ان کے خاندان کو اطلاع دی تو سب کو توقع تھی کہ بیٹے فوراً ماں کی میت لینے پہنچیں گے، مگر صورتِ حال اس کے برعکس نکلی۔ خاتون کا چھوٹا بیٹا خبر سنتے ہی اپنے بڑے بھائی سے مشورے کے لیے فون پر بات کرنے لگا، لیکن جواب نے پورے عملے کو حیران کر دیا۔ بڑے بیٹے نے کہا کہ گھر میں شادی چل رہی ہے، اس وقت میت لے جانا مناسب نہیں، اس لیے لاش کو چار دن ڈیپ فریزر میں رکھ دیا جائے تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو۔
اولڈ ایج ہوم کے عملے نے جب بیٹوں کی یہ بے حسی سنی تو انہوں نے دیگر رشتہ داروں سے رابطے کی کوشش کی، لیکن کسی نے فوری طور پر میت لینے پر آمادگی ظاہر نہ کی۔ کئی بار فون کالز، وضاحتوں اور منت سماجت کے بعد بالآخر چند رشتہ دار تیار ہوئے اور شبھا دیوی کی میت گھر منتقل کی گئی۔ مگر اس کے بعد ایک اور حیران کن موڑ سامنے آیا جس نے سب کو مزید افسردہ کر دیا۔
خاندان نے شبھا دیوی کی ہندو رسومات کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے کے بجائے فوری تدفین کا فیصلہ کر لیا، جس پر خاتون کے شوہر بھوال گپتا بھی سخت حیران رہ گئے۔ ان کے مطابق رشتہ داروں نے پہلے یقین دلایا تھا کہ چار دن بعد تمام رسومات پوری عقیدت کے ساتھ ادا کی جائیں گی، مگر اچانک تدفین کے فیصلے نے انہیں صدمے میں ڈال دیا۔ بوڑھے شوہر کا کہنا تھا کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے والی شریکِ حیات کی آخری رسومات یوں خاموشی سے انجام دیے جانا ان کی برداشت سے باہر ہے۔
اس واقعے نے بھارت بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور سوشل میڈیا پر لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جدید زندگی کی مصروفیات اور تقریبات انسانی جذبات سے اتنی اہم ہو چکی ہیں کہ والدین کی آخری رسومات تک پسِ پشت ڈال دی جائیں؟ یہ کیس بڑھاپے میں والدین کے بڑھتے ہوئے احساسِ تنہائی اور معاشرتی بے حسی کا ایک واضح آئینہ بن کر سامنے آیا ہے، جس نے ہزاروں لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ د
یا ہے۔
