شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر دہشت گرد حملہ، 4 جوان شہید، 4 خوارج ہلاک، مقامی آبادی بھی متاثر
شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے نے ایک بار پھر خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کو بے نقاب کر دیا ہے۔
12/20/20251 min read


شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے نے ایک بار پھر خطے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے چار بہادر جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے، جبکہ بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی میں چار دہشت گرد، جنہیں ریاست مخالف عناصر یا خوارج کہا جا رہا ہے، مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے رات کے وقت سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم اہلکاروں نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے کو پسپا کر دیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شہید ہونے والے جوانوں نے آخری دم تک دشمن کا مقابلہ کیا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں عظیم قربانی دی۔ شہداء کی یہ قربانی ملک میں امن و استحکام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے عزم کی روشن مثال ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 15 مقامی شہری بھی زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ڈاکٹرز کی ٹیمیں مکمل طور پر متحرک ہیں۔
علاقے میں حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشتبہ ٹھکانوں کی تلاشی لی اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک کے ہر کونے میں امن قائم رکھا جائے گا۔
سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس حملے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ عوامی نمائندوں اور مختلف طبقات نے شہید ہونے والے جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ایسے بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے بلکہ اس طرح کے واقعات عوام اور فورسز کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی وزیرستان اور قبائلی اضلاع میں امن دشمن عناصر کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری ہیں، جس کے باعث دہشت گردی کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم حالیہ حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دشمن اب بھی موقع کی تلاش میں رہتا ہے، جس کے لیے سیکیورٹی فورسز اور عوام دونوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی، اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ قوم نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے محافظوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ملک کے امن و سلامتی کے لیے متحد ہے۔
