سرحدی کشیدگی میں اضافہ: چمن میں فائرنگ سے تین پاکستانی زخمی، افغانستان میں چار ہلاک — خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید سنگین
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں سنیچر کی شب پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر شدت سے اُبھارا ہے۔
12/7/20251 min read


بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں سنیچر کی شب پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ایک بار پھر شدت سے اُبھارا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق افغان طالبان نے ’’چمن سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کی‘‘ جس کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے ’’فوری اور سخت ردِعمل‘‘ دیا۔ فائرنگ اور گولہ باری کے اس تبادلے میں چمن کے رہائشی محمد یونس کے گھر کے صحن میں گولہ گرنے سے ان کے خاندان کے تین افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب قندھار میں افغان ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ جھڑپوں میں چار افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد افغان حکام نے سرحدی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین یہ تازہ جھڑپ اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی شدت پسند حملوں میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔ پاک فوج نے ایک الگ کارروائی میں بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران نو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور ریاست کسی بھی قسم کی بغاوت، دہشت گردی یا سرحد پار حملوں کو برداشت نہیں کرے گی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ایک اہم معاشی پیشرفت بھی سامنے آئی ہے جس کے تحت پاکستان نے اس سال وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس کو آلو اور کینو ایران کے راستے برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے سے نہ صرف زرِمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں تجارتی راہداریوں کے استعمال سے پاکستان کی اقتصادی رسائی بھی وسیع ہوگی۔
سیاسی محاذ پر بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے ’’بیانیے‘‘ کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’جیل میں کی جانے والی ملاقاتوں کے بعد مسلح افواج اور قیادت کے خلاف بیانیہ دیا جاتا ہے‘‘۔ ترجمان کے بیان نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جو پہلے ہی اداروں اور سیاست میں بڑھتی ہوئی کھینچا تانی کے باعث گرم ہے۔
چمن میں ہونے والی تازہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی، سرحدی نگرانی کے مسائل اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی خطے کے امن کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عوامی سطح پر بھی شدید خوف اور بےچینی پائی جاتی ہے کیونکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ کسی بھی وقت ہونے والی گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ خطے کے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ دونوں ممالک سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے اور امن کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی فوری کو
شش کریں۔
