Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

سوڈان کے جنوبی کورڈوفان میں اقوامِ متحدہ کے بیس پر ڈرون حملہ: 6 بنگلہ دیشی امن دستے ہلاک، 8 زخمی — اقوامِ متحدہ نے جنگی جرم قرار دیا

سوڈان کے جنوبی کوردوفان کے قریب کاڈگلی میں واقع اقوامِ متحدہ کے لاجسٹکس بیس پر 13 دسمبر 2025 کو کیے گئے ڈرون حملے میں چھ بنگلہ دیشی امن دستے کے ارکان ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں،

12/14/20251 min read

سوڈان کے جنوبی کوردوفان کے قریب کاڈگلی میں واقع اقوامِ متحدہ کے لاجسٹکس بیس پر 13 دسمبر 2025 کو کیے گئے ڈرون حملے میں چھ بنگلہ دیشی امن دستے کے ارکان ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں، اقوامِ متحدہ کے ترجمان اور بین الاقوامی رپورٹس نے تصدیق کی ہے۔ یہ حملہ یونائیٹڈ نیشن انٹرِم سکیورٹی فورس فار ابیئی (UNISFA) کے کیمپ کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جہاں بین الاقوامی امن دستے لاجسٹک اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تعینات تھے۔

سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرِش نے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ امن دستوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے تحت “ممکنہ طور پر جنگی جرم” قرار پا سکتا ہے، اس واقعے کا فوری، شفاف اور بین الاقوامی سطح پر معیاری انداز میں تفتیش کیا جانا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ نے واقعے کو بین الاقوامی امن کاری کوششوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

سوڈانی فوج نے اس حملے کا الزام پیرامیلیٹری گروپ ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) پر عائد کیا ہے اور اسے تشدد کی ایک خطرناک شدت قرار دیا ہے۔ حکومتِ سودان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے کشیدگی میں خطرناک اضافے کی نشانی ہیں اور ذمہ داران کو قانونی طور پر جواب دہ بنایا جائے گا۔ اس وقت تک RSF کی جانب سے باضابطہ تبصرہ موصول نہیں ہوا۔

بنگلہ دیشی فوجی ذرائع اور ملکی ادارہ برائے عوامی تعلقات (ISPR) نے بھی بھارتیہ بنگلہ دیش کے شہری امن دستوں کی ہلاکت و زخموں کی تصدیق کی اور اپنے سوگ و افسوس کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش میں حکومتی و فوجی حلقوں نے متاثرین کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے واقعے کی مکمل تفتیش اور ذمہ داروں کو سزا دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرینِ بین الاقوامی تعلقات کا کہنا ہے کہ سوڈان میں فوج اور RSF کے درمیان جاری جھڑپیں دو سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور اس دوران فضائی صلاحیت، خاص طور پر ڈرونز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جس سے شہری مقامات اور بین الاقوامی اداروں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انسانی امدادی کارواں، طبی مراکز اور اقوامِ متحدہ کے اہلکار پہلے بھی اس جنگ زدہ بحران میں نشانہ بن چکے ہیں، جس سے علاقائی اور بین الاقوامی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام واقعے کی فوری تفتیش اور متاثرین کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی منظرنامے میں یہ واقعہ سوڈان میں جاری تنازعے کی سنگینی کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے اور امن مشنز کی حفاظت کے حوالے سے فوری کارروائی کی ضرورت کو تقویت

دیتا ہے۔