Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

سونے کی قیمتوں میں تاریخی تیزی، عالمی منڈی میں بڑا اضافہ، پاکستان میں فی تولہ سونا نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی منڈیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

12/20/20251 min read

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی منڈیوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 13 ڈالر کے اضافے کے بعد 4 ہزار 338 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں یہ اضافہ معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے دباؤ، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت 1300 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 56 ہزار 162 روپے کی سطح پر آ گئی ہے، جو عام خریداروں کے لیے ایک بڑی حد تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 1 ہزار 115 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد دس گرام سونا 3 لاکھ 91 ہزار 085 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

صرافہ بازار سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی، امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سونے کو ایک بار پھر محفوظ سرمایہ کاری بنا دیا ہے۔ سرمایہ کار بڑی تعداد میں سونے کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔ پاکستان میں بھی معاشی حالات، روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی لاگت میں اضافے نے سونے کی قیمت کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔

دوسری جانب شادی بیاہ کے سیزن کے باوجود زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سونے کی بلند قیمتوں کے باعث فروخت میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے زیورات خریدنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی خاندان خریداری مؤخر کرنے یا کم وزن کے زیورات لینے پر مجبور ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، جو معاشی دباؤ میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر موجودہ حالات برقرار رہے تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینکوں کی پالیسیاں، عالمی شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سونے کی قیمتوں کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔ پاکستان میں بھی اگر روپے کی قدر مستحکم نہ ہوئی تو سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔

مجموعی طور پر سونے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف مقامی مارکیٹ بلکہ عام صارف اور کاروباری طبقے دونوں کے لیے ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی اور مقامی معاشی فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ سونے کی قیمتیں مزید بلندی کی طرف جاتی ہیں یا کسی حد تک استحکام حاصل کر پاتی ہیں۔