’’یوکرین جنگ میں ممکنہ امن کی لہریں؟ لندن اجلاس سے پہلے سفارتی کوششیں تیز، نئے منصوبے اور تنازعات پھر نمایاں‘‘
یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
12/8/20251 min read


یوکرین اور روس کے درمیان جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ لندن میں متوقع اعلیٰ سطحی اجلاس سے قبل امریکہ، یورپی ممالک، روس اور یوکرین کے درمیان سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز ہو گئی ہیں، جبکہ مختلف سطحوں پر پیش کی جانے والی تجاویز نے مذاکراتی عمل کو نئی جہت دی ہے۔ تاہم اب تک سامنے آنے والے منصوبے کئی اہم اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کسی بھی پیش رفت کو مشکل بنا رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکہ کی جانب سے حمایت یافتہ ایک 28 نکاتی امن منصوبے کی تفصیلات سامنے آئیں، جس نے یوکرین میں شدید ردعمل پیدا کیا۔ اس منصوبے کے مطابق یوکرین سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ کچھ علاقے روس کے حوالے کرے، اپنی فوجی صلاحیتیں کم کرے اور نیٹو میں شمولیت کے ارادے سے دستبردار ہو جائے۔ ماہرین کے مطابق یہ تجاویز جنگ بندی کی جانب ایک راستہ ضرور پیش کرتی ہیں لیکن یوکرین کے لیے سیاسی طور پر قبول کرنا انتہائی دشوار ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واضح کیا کہ ان کے ملک کو اپنی خود مختاری اور عزت کے درمیان کوئی سمجھوتہ قبول نہیں، ورنہ وہ امریکی حمایت بھی کھو سکتے ہیں۔ یورپی اتحادیوں نے بھی اس منصوبے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’روس کے حق میں جھکا ہوا فارمولا‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب 23 نومبر کو جنیوا میں امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی نمائندوں نے ایک متبادل تجویز پیش کی جس میں یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے کا امکان برقرار رکھا گیا اور اسے سکیورٹی گارنٹیز دینے کی سفارش کی گئی۔ اگرچہ اس تجویز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ یورپی بلاک یوکرین کی عسکری اور سیاسی خودمختاری کے تحفظ کو بنیادی حیثیت دیتا
ہے۔
