Mr. Tahir Shahzad as Haq Khabar owner & director

یوٹیوب دیکھ کر جعلی سرجن بننے کا خوفناک انجام: اتر پردیش میں غلط آپریشن سے خاتون جاں بحق، پولیس کا قتل کا مقدمہ درج

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیش آنے والا ایک لرزہ خیز واقعہ نہ صرف طبی نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ عوام کے لیے ایک سخت وارننگ بھی ہے۔

12/16/20251 min read

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیش آنے والا ایک لرزہ خیز واقعہ نہ صرف طبی نظام پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ عوام کے لیے ایک سخت وارننگ بھی ہے۔ یہاں ایک جعلی ڈاکٹر نے یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ کر خاتون کا آپریشن کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں مریضہ جان کی بازی ہار گئی۔ پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت منیشرا راوت کے نام سے ہوئی ہے، جو شدید پیٹ درد میں مبتلا تھیں اور علاج کی غرض سے ایک غیر منظور شدہ کلینک لے جائی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق خاتون کے شوہر نے انہیں بارہ بنکی کے ایک نجی اور غیر رجسٹرڈ کلینک میں دکھایا، جہاں موجود افراد گیان پرکاش مشرا اور وویک مشرا نے خود کو ڈاکٹر ظاہر کیا۔ ابتدائی معائنے کے بعد انہوں نے مریضہ کو گردے کی پتھری کا مریض قرار دیا اور علاج کے نام پر آپریشن کا مشورہ دیا۔ جعلی معالجین نے پہلے 25 ہزار روپے کا مطالبہ کیا، تاہم بعد میں یہ رقم 20 ہزار روپے پر طے پا گئی۔ اہل خانہ نے علاج کی امید میں رقم ادا کر دی، لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ بن جائے گا۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ اگلے روز گیان پرکاش مشرا نے یوٹیوب پر موجود سرجری سے متعلق ویڈیوز دیکھ کر خود ہی آپریشن شروع کر دیا۔ حیران کن اور خوفناک پہلو یہ ہے کہ ملزم نشے کی حالت میں تھا اور اسے کسی قسم کی باقاعدہ طبی تربیت یا سرجیکل مہارت حاصل نہیں تھی۔ آپریشن کے دوران اس نے پتھری نکالنے کے بجائے مریضہ کے پیٹ میں گہرے زخم لگا دیے، جس سے آنتوں، غذائی نالی اور متعدد نازک رگیں کٹ گئیں۔ اس غیر پیشہ ورانہ اور مجرمانہ عمل کے باعث خاتون کی حالت تیزی سے بگڑتی چلی گئی۔

اہل خانہ کے مطابق آپریشن کے بعد مریضہ شدید تکلیف میں مبتلا رہی اور مسلسل خون بہتا رہا، مگر کلینک میں موجود افراد نے مناسب طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی۔ بالآخر خاتون اگلے دن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ واقعے کے بعد اہل علاقہ میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور متاثرہ خاندان نے پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

خاتون کے شوہر کی درخواست پر پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے، جس میں موت کی وجہ شدید اندرونی چوٹیں اور خون کا زیادہ بہاؤ قرار دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کے خلاف قتل، دھوکہ دہی اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام یہ بھی جانچ کر رہے ہیں کہ مذکورہ کلینک کب سے کام کر رہا تھا اور اس سے قبل کتنے مریض اس جعلی علاج کا شکار بن چکے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر منظور شدہ کلینکس اور جعلی معالجین عوام کی جانوں کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ علاج سے قبل معالج کی رجسٹریشن اور کلینک کی قانونی حیثیت کی تصدیق نہایت ضروری ہے، کیونکہ ایک غلط فیصلہ زندگی اور موت کا فرق ب

ن سکتا ہے۔